قومی اقتصادی سروے پیش؛وزیر خزانہ کی نگران حکومت کے اقدامات کی تعریف
معاشی سروے کا پیش کرنا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے نگران حکومت کے اقدامات کی تعریف کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا آسٹریلیا کا سرکاری دورہ، 14ویں سالانہ دفاعی و سلامتی مذاکرات میں شرکت
موجودہ مالی سال کی جی ڈی پی گروتھ
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سال 2024-25 کا اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ 2.7 فیصد رہی، ہم استحکام کی طرف گامزن ہیں۔ پاکستان کی افراط زر 4.6 فیصد ہے۔ 2023 میں دو ہفتوں کیلئے ذخائر موجود تھے، اور 2023 کے بعد جو ریکوری شروع ہوئی وہ درست سمت میں گئی۔ نگران حکومت میں اچھے اقدامات کو سراہتا ہوں، وزیراعظم شہبازشریف نے ایس بی اے پروگرام حاصل کیا، نگران وزیر خزانہ کا اس پروگرام کو ٹریک پر رکھنا قابل ستائش ہے۔ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے یاد ہے اس نے پہلی چھٹی پیش کی اور کہا ”اس پر” سین لکھ دیں کہہ کر مجھے شش و پنج میں ڈال دیا، میری حیرانگی ختم ہوئی اور پہلا سبق از بر ہو گیا
آئی ایم ایف پروگرام کے اثرات
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے ہمارا اعتماد بحال ہوا، آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد میکرو اکنامک استحکام تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد: سائنسدانوں نے سالانہ 200 انڈے دینے والی مرغی کی نسل تیار کرلی
معاشی اصلاحات کی ضرورت
معیشت کے ڈی این اے کو تبدیل کرنے کیلئے سٹرکچرل ریفارمز ناگزیر ہیں۔ اس میں ملک میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات ضروری تھیں۔ توانائی اصلاحات میں ریکوریز بہت شاندار رہیں، اور ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹیکسوں کے نظام میں بہتری لا رہے ہیں۔ توانائی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لئے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC) کو تین کمپنیوں میں تقسیم کرنا ایک اہم اقدام تھا۔
گردشی قرضے اور بینکنگ کی بات چیت
گردشی قرضوں کو بھی ختم کرنا ہے، اور اس پر قابو پانے کے لیے بینکوں کے ساتھ 1200 ارب روپے سے زائد کی بات چیت کی گئی۔ عالمی گروتھ کی نسبت پاکستان نے جی ڈی پی گروتھ میں ریکوری کی ہے۔ عالمی مہنگائی دو سال پہلے 6.8 فیصد تھی جبکہ اب 0.3 فیصد ہے۔ پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی شرح 4.6 فیصد ہے۔








