وزارت داخلہ کے تمام ذیلی اداروں کے مابین باہمی تعاون بڑھانے کا فیصلہ
اہم اجلاس کا انعقاد
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام ذیلی اداروں کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سفارتی و سیکیورٹی پیش رفت پر انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) کی سروے رپورٹ جاری، عوام نے کن خیالات کا اظہار کیا ؟ جانیے
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ادارے ایک دوسرے کی استعداد کار سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ انفارمیشن اور ڈیٹا کا بروقت تبادلہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور تمام اداروں کو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس اعجاز سواتی کی چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تقرری کی منظوری
بیرون ملک افسران کی معاونت
محسن نقوی نے زور دیا کہ بیرون ملک سفارت خانوں میں تعینات افسران وزارت کے دیگر اداروں کو بھی معاونت فراہم کر سکتے ہیں، اس لیے تمام اداروں کی افرادی قوت سے مکمل استفادہ کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کو سیلابی نالوں، نہروں اور دریاؤں میں نہانے سے روکیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی والدین سے اپیل
تربیتی کورسز کی ہدایت
وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ تربیتی کورسز میں صرف میرٹ پر پورا اترنے والے افسران کو نامزد کیا جائے تاکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مؤثر اضافہ ممکن ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنماؤں کو بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی
سفارشات کی ضرورت
انہوں نے تمام اداروں کو اس حوالے سے اپنی سفارشات جلد از جلد پیش کرنے کی ہدایت کی، جن کی روشنی میں سیکرٹری داخلہ ایک جامع پلان مرتب کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ہم ہر پاکستانی اپنے اپنے شعبہ میں یہ سوچ کر کام کریں کہ اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں اگر پاکستان مضبوط ہے تو ہم مضبوط ہیں، ابھی وقت ہے
بہتر کوآرڈینیشن کے فوائد
محسن نقوی نے مزید کہا ہے کہ بہتر کوآرڈینیشن نہ صرف عوام کے لیے فائدہ مند ہو گی بلکہ حکومتی سطح پر بھی مؤثر نتائج دے گی۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے افراد
اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری، سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹریز نادرا، اینٹی نارکوٹکس کنٹرول، ایف آئی اے، فرنٹیئر کور، فرنٹیئر کانسٹیبلری، رینجرز، نیشنل پولیس اکیڈمی، نیشنل پولیس بیورو، پاسپورٹ اینڈ امیگریشن، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور اسلام آباد پولیس کے سربراہان نے شرکت کی۔








