تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے: حافظ نعیم الرحمان
تنخواہ دار طبقے پر بوجھ نہ ڈالا جائے
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ سال 499 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا، مگر اس طبقے کو اب بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ دیا مرزا نے فلم میں ’ریپ سین‘ سے متعلق حیران کن انکشاف کر دیا
حکومت کی مراعات اور خاموشی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، لیکن خواجہ آصف جیسے وزراء اس پر خاموش ہیں، موجودہ حکومت اور اپوزیشن مل کر صرف اپنی تنخواہیں اور مراعات بڑھاتے ہیں، جبکہ غریب اور مڈل کلاس کی زندگی کو اجیرن بنا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 35ہزار 500روپے کمی
بجٹ میں اہم شعبوں کی نظراندازی
انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں تعلیم، صحت اور امن و امان جیسے شعبوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے، جبکہ ہر وقت "ٹیکس، ٹیکس" کی گردان کی جا رہی ہے، سولر سسٹمز پر لگایا گیا ٹیکس واپس لیا جائے اور عوام کو ریلیف دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈکپ، نمیبیا کے خلاف پاکستان کی پہلی وکٹ گرج گئی، صائم 14 رنز بناکر آؤٹ
تعلیم کی صورتحال اور غربت
ان کا کہنا تھا کہ 11 کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، تعلیم مہنگی ہوتی چلی جا رہی ہے وزیراعظم کہتے رہے تعلیمی ایمرجنسی لگائیں گے اور آج بھی دو کروڑ بانویں لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، گھوسٹ سکولوں میں کرپشن کا بازار گرم ہے، اگر تعلیم پر پیسے لگاتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا: گھر کے سربراہ کے انتقال پر مالی امداد دی جائیگی، لائف انشورنس سکیم منظور
زرعی معیشت کا بحران
انہوں نے بتایا کہ موجودہ شرح نمو محض 0.45 فیصد پر آ گئی ہے جو کسان دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے، کپاس کی کاشت میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جو زراعت کے شعبے کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے، بجلی کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ اب تک وفا نہیں ہوا، جبکہ آئی پی پیز پر بات کرنے کے باوجود اس پر کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق رکن قومی اسمبلی رمیش کمار کے گھر سے ڈاکو 2 کروڑ روپے کا سامان لے اڑے
ٹیکس سسٹم کی اصلاحات
حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا کہ حکومت ڈیڑھ ہزار ارب روپے کے محصولات میں کمی کا اعتراف کر چکی ہے اور پانچ سو ارب روپے کا مزید ٹیکس لگانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، اگر سود کو آدھا کر دیا جائے اور ایف بی آر کی کرپشن پر قابو پایا جائے تو نہ صرف ٹیکس کا نظام بہتر ہو سکتا ہے بلکہ عوام کو ریلیف بھی دیا جا سکتا ہے۔
عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام کو اس نظام کے خلاف متحد کرے گی جو صرف اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔








