اگر مسلم دنیا متحد نہ ہوئی تو سب کی باری آئے گی: خواجہ آصف
خواجہ آصف کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مسلم دنیا متحد نہ ہوئی اور اپنے ایجنڈے کے تحت اپنے مفادات کا تحفظ کرتی رہی تو سب کی باری آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں مشکوک افراد کی پولیس موبائل پر فائرنگ، ہیڈ کانسٹیبل کا اغوا اور رہائی، ملزم گرفتار نہ ہوسکے
اسرائیل کا ظلم
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی بچوں پر ظلم ڈھا رہا ہے، اسرائیل فلسطین کی تباہی میں ملوث ہے، اسرائیل کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون میں رنگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی تاریخ کے سب سے طاقتور نائب صدر، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے معمار، عراق پر جھوٹی جنگ مسلط کرنے کے منصوبہ ساز، ڈک چینی چل بسے
ایران اور مسلم دنیا کی صورتحال
انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ برادر ملک ہے، ہمارے ایران کے ساتھ ایسے رشتے ہیں جس کی تاریخ میں کم مثال ملتی ہے، اسرائیل نے ایران، فلسطین، یمن کو ٹارگٹ بنایا ہوا ہے، اگر مسلم دنیا متحد نہ ہوئی اور اپنے ایجنڈے کے تحت اپنے مفادات کا تحفظ کرتی رہی تو سب کی باری آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتی وفد اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی میں رواں ہفتہ ملاقات کا امکان
مسلمان ممالک کی کمزوری
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مسلم ممالک ملٹری طور پر بہت کمزور ہیں، او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے، مسلمان ممالک مل کر ایسی سٹریٹیجی بنائیں جس سے اسرائیل کا مقابلہ کیا جا سکے۔ جس طرح فلسطین میں بچوں کو شہید کیا گیا، ظلم کیا گیا، اسلامی ممالک میں اس طرح آوازیں نہیں اٹھ رہی ہیں، غیر مسلموں کے ضمیر جاگ رہے ہیں لیکن مسلمانوں کے نہیں۔ مسلم دنیا کے کچھ ممالک کے اسرائیل سے تعلقات ہیں، وہ تعلقات منقطع کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر پنجاب کا لوک ورثہ میں پنجاب اور سندھ پویلینز کا دورہ،میلے ہمارے معاشرے کیلئے ناگزیر ہیں: سردار سلیم حیدر خان
بھارتی حملے کا ذکر
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جب بھارت نے ہم پر حملہ کیا تو ہم نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو مٹی میں رول دیا، کل ایران میں ان کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اس میں اسرائیل اکیلا نہیں ہے، انہیں ہر قسم کا کور فراہم کیا گیا ہے۔ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے عالم اسلام کا اتحاد نظر آئے۔
مہنگائی کی صورتحال
مہنگائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مہنگائی بالکل ہے لیکن بڑھنے کی شرح کہاں تھی اور اب کہاں ہے۔ سٹاک مارکیٹ ایک لاکھ 25 پوائنٹس تک پہنچی، کون لوگ تھے جنہوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھے کہ پاکستان کو قرضہ نہ دیا جائے، ایک شخص کو ساری سیاست کا محور بنا دینا درست نہیں ہے۔








