بلوچستان کا 1028 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش
بلوچستان کا بجٹ
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان کا آئندہ مالی سال کے لیے 1028 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا گیا، جس میں ترقیاتی پروگراموں کے لیے 240 ارب روپے اور غیر ترقیاتی بجٹ کے لیے 642 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میرا کسی قسم کا کوئی سیاسی مقصد نہیں، قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر
بجٹ کی تفصیلات
ڈان کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے قلیل وقت میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ رواں مالی سال کا 100 فیصد ترقیاتی بجٹ استعمال کیا جاچکا ہے، جس سے بلوچستان کے ترقیاتی کاموں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی سالمیت، سکیورٹی اور شہریوں کے تحفظ میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: فیلڈ مارشل
ترقیاتی بجٹ کی تقسیم
صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی بجٹ کا 21 فیصد سڑکوں، 18 فیصد آبپاشی، 13 فیصد تعلیم، 8 فیصد صحت، اور 2.3 فیصد توانائی کے لیے رکھا گیا تھا۔ تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے حکومت نے 32 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی، جبکہ عوام کو صاف پانی کی رسائی، ڈیموں کی تعمیر، اور دیگر منصوبوں پر 46 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: صہیونی جارحیت کیلئے فلسطینیوں کا ساتھ دینا مسلمانوں پر فرض ہے: مولانا فضل الرحمٰن
صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری
صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ 36 ارب 50 کروڑ روپے کا سرپلس بجٹ ہے، جس میں محکمہ صحت کے مختلف منصوبوں اور نئی آسامیوں کے لیے ترقیاتی مد میں 16 ارب 40 کروڑ اور غیر ترقیاتی مد میں 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں ہیلتھ کارڈ اسکیم کے لیے 4 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ گریٹ یونین پارٹی کا پاکستان سے اظہار یکجہتی، ہمیں اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے: چئیرمین مصطفیٰ دستجی کا خطاب، ویڈیو دیکھیں
تعلیم کے لیے خصوصی مختص
شعیب نوشیرانی نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کا شعبہ سرفہرست ہے۔ محکمہ تعلیم کے لیے 1170 کنٹریکٹ اور 67 ریگولر آسامیاں تخلیق کی گئیں ہیں۔ رواں مالی سال میں ای سی ای اور اسکول ایجوکیشن کے لیے 28 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بابوسرٹاپ پر سیلابی ریلے میں بہنے والی ڈاکٹر مشعال کے 3 سالہ بیٹے کی لاش 2 دن بعد مل گئی
زراعت کی اہمیت
صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ زراعت کے شعبے کے ترقیاتی امور کے لیے 10 ارب اور غیر ترقیاتی امور کے لیے 16 ارب 77 کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کے وزیرِاعظم احمد بن مبارک نے استعفیٰ دے دیا
دیگر شعبوں کے لیے بجٹ کی تفصیلات
محکمہ خوراک: آئندہ مالی سال میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 26.9 ملین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں ایک ارب 19 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں。
لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی: ترقیاتی امور کے لیے 12 ارب 90 کروڑ اور غیر ترقیاتی امور کے لیے 42 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مواصلات و تعمیرات: ترقیاتی مد میں 66 ارب 80 کروڑ اور غیر ترقیاتی مد میں 17 ارب 48 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
امن و امان: غیر ترقیاتی مد میں 83 ارب 70 کروڑ روپے اور ترقیاتی مد میں 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
آبپاشی: غیر ترقیاتی امور کے لیے 5 ارب 30 کروڑ روپے اور ترقیاتی امور کے لیے 42 ارب 70 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
ٹرانسپورٹ: غیر ترقیاتی امور کے لیے 46 کروڑ 35 لاکھ روپے اور ترقیاتی امور کے لیے 54 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
پاکستان ریلویز کے ساتھ شراکت
وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے کہا کہ پاکستان ریلویز کے اشتراک سے پیپلز ٹرین سروس چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو ابتدائی طور پر کوئٹہ کے نواحی علاقوں سریاب اور کچلاک کے درمیان چلے گی۔








