پاکستان نے غزہ کی صورتحال کو انسانیت کے ضمیر پر دھبہ قرار دے دیا
پاکستان کا غزہ کے بارے میں بیان
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے غزہ میں جاری صورتحال کو انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر ایک دھبہ قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: صوبے کا امن ہماری ترجیحات اور آج کے جرگہ کا اکلوتا ایجنڈا ہے، گورنر فیصل کریم کنڈی
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب
نجی ٹی وی دنیانیوز کے مطابق جنرل اسمبلی کے دسویں ہنگامی خصوصی اجلاس کے دوبارہ آغاز کے موقع پر فلسطین کی صورتحال پر پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 55,000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 18,000 بچے اور 28,000 خواتین شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طلباء کی ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ریلی، اب بھارت ہمارا ہر جواب یاد رکھے گا: وزیر تعلیم
غزہ کی بنیادی ڈھانچے کی تباہی
عاصم افتخار نے کہا کہ غزہ میں گھروں، ہسپتالوں، سکولوں، ثقافتی ورثے اور عبادت گاہوں سمیت بنیادی ڈھانچے کو زمین بوس کر دیا گیا ہے، جبکہ قحط کا خدشہ بھی منڈلا رہا ہے۔ انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور اقوام متحدہ کے عملے پر بے دریغ حملے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا یہ صرف ایک انسانی بحران نہیں بلکہ انسانیت کا زوال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لئے سفارت خانہ پاکستان ابوظہبی میں یوم سیاہ کشمیر منایا گیا
عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ خطرات انتہائی سنگین ہیں اور عالمی برادری کو اب خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی نظام بالخصوص کثیرالطرفہ نظام کی ساکھ آزمائش سے دوچار ہے اور یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ قابض قوت، جو بین الاقوامی قانون کی بدترین خلاف ورزی کی مرتکب ہے اور اس کے محافظ، اس باوقار ایوان میں کھڑے ہو کر بقیہ دنیا کو ہی موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں جو تاریخ کے درست پہلو پر کھڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں پر کنٹینر گرنے سے 4 افراد کی جان چلی گئی
اخلاقی وضاحت کی ضرورت
ان کا مزید کہنا تھا کہ اخلاقی دیوالیہ پن کی اس ایوان میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے اور زور دیا کہ سیاسی دباؤ اور مفادات سے بالاتر ہو کر ہمیں اخلاقی وضاحت، قانونی دیانت اور سیاسی ارادے کے ساتھ عمل کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی رواں سال پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی کی پیشگوئی
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ذمہ داری
عاصم افتخار نے کہا کہ ایسے نازک لمحات میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جو سب سے نمائندہ اور جمہوری ادارہ ہے، کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ ادارہ وہ بات کرے جہاں سلامتی کونسل کو خاموش کرا دیا گیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ایک لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا ایک اور ٹینڈر جاری
شہریوں کے تحفظ کے لیے قرارداد
انہوں نے گزشتہ ہفتے جنرل اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد شہریوں کے تحفظ اور قانونی و انسانی ذمہ داریوں کی پاسداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد بین الاقوامی عزم کا ایک اہم اظہار تھی۔ پاکستان کو اس اقدام کی حمایت اور اس کی مشترکہ پیشکش پر فخر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پروڈیوسر نے کام دینے کے بدلے کیا شرط رکھی تھی؟ اداکارہ عائشہ کپور کا تہلکہ خیز انکشاف
قرارداد میں اہم نکات
مستقل مندوب کا مزید کہنا تھا کہ قرارداد میں درج ذیل نکات شامل تھے: فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کا مطالبہ، اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور احتساب پر زور دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: طلاق کی شرح میں غیرمعمولی اضافے سے متعلق نئی رپورٹ جاری
عالمی برادری سے اپیل
عاصم افتخار نے کہا کہ یہ قرارداد اس بات کو یاد دلاتی ہے کہ یہ ایک غیر قانونی قبضے کی صورتحال ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت قابض طاقت، اسرائیل کی ذمہ داریوں کو دوبارہ اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ذمہ داریوں کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے فوری اور مؤثر اقدام کرے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی ایل میں امپائرز کو ایک میچ کی کتنی فیس ملتی ہے؟
پاکستان کا موقف
انہوں نے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے اور قرارداد 2735 کے مکمل نفاذ پر زور دیتا ہے۔ غزہ کی ناکہ بندی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ انسانی امداد کی آزادانہ اور بلا خوف رسائی ممکن ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے کارکن بانی پی ٹی آئی کو ریڈلائن اور روحانی شخصیت گردانتے ہیں، 9 مئی گاڑی جلانے کے کیس کا فیصلہ جاری
آئندہ ہائی لیول کانفرنس کا انتظار
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان آئندہ ہفتوں میں فلسطین اور دو ریاستی حل سے متعلق ہائی لیول کانفرنس کے انعقاد کا منتظر ہے جس کی مشترکہ صدارت فرانس اور سعودی عرب کریں گے۔
پائیدار امن کا حصول
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ یہ کانفرنس پائیدار امن، فلسطینی ریاست کے قیام اور اقوام متحدہ میں اس کی مکمل رکنیت کے لئے ایک قابلِ اعتبار راستہ فراہم کرنے میں ٹھوس نتائج دے۔ یہ اس بات کا ایک اور واضح اظہار ہوگا کہ عالمی برادری اس مسئلے پر کہاں کھڑی ہے۔








