لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ٹرائل کورٹس میں گواہوں کے بیانات اردو میں لکھنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں ٹرائل کورٹس کو ہدایت جاری کی ہے کہ گواہوں کے بیانات انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی تحریر کیے جائیں، تاکہ انصاف کے تقاضے پوری طرح پورے کیے جا سکیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ماتحت عدالتوں میں اردو زبان میں بیانات درج کرنے کا نوٹیفکیشن پہلے سے موجود ہے مگر تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11 کی فاتح ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملے گی؟ پی سی بی نے اعلان کردیا۔
محمد عرفان کا کیس
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق عدالت نے یہ فیصلہ محمد عرفان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس میں سنایا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محمد عرفان پر شہری عبدالناصر کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا الزام ہے، تاہم مقدمے کے دوران اہم قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مکینک کے پاس جائیں تو وہ اپنی دیہاڑی کے لیے دائیں بائیں ایسے ہی پینٹ کر دیتا ہے، متین آٹوز پر یہ نہیں ہوتا
عدلیہ کے اصولوں کی پاسداری
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ گواہوں کے بیانات کا اردو ترجمہ عدالتی ریڈر نے ملزم کی غیر موجودگی میں کیا، جو قانونی خلاف ورزی ہے۔ مزید کہا گیا کہ پریزائیڈنگ آفیسر سے انگلش ٹائپنگ کی غلطی ہوئی جس سے بیان میں تضاد پیدا ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی جونیئر ٹیم کے انتخاب میں شارٹ لسٹ نوجوان فٹبالر ٹریفک حادثے کا شکار
عدالتی کارروائی کی شفافیت
فیصلے میں عدالت نے کہا کہ قانون کی منشا یہی ہے کہ ماتحت عدالتوں میں اردو زبان کا استعمال کیا جائے اور بیانات گواہوں کی مادری زبان میں درج کیے جائیں، تاکہ شفاف اور درست عدالتی کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
فیصلے کی عملداری
عدالت نے کیس میں موجود تضادات اور ترجمے کی خامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محمد عرفان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ ساتھ ہی رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی فیصلے کی کاپی تمام ماتحت عدالتوں کے ججز کو فوری طور پر بھجوائی جائے تاکہ آئندہ ایسے نقائص سے بچا جا سکے۔








