گجرات کی صاف ستھری ثقافت، تہذیب اور ادب
تعلیم اور صنعتی مرکز
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 163
وزیرآباد اور گوجرانوالہ کی طرح یہ بھی ایک بہت بڑا صنعتی مرکز ہے جہاں الیکٹرونک، سینیٹری، ٹائلز اور پنکھوں کی بہت بڑی فیکٹریاں اور کارخانے قائم ہیں۔ خوبصورت کراکری بھی یہاں بنتی ہے۔ چھوٹی گھریلو صنعت بھی اپنے عروج پر ہے جہاں چھوٹے پیمانے پر ہر طرح کا کام چلتا رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی نے جنرل باجوہ اور فیض حمید سے مل کر ہمارے خلاف کیا کچھ نہیں کیا، نواز شریف کی لندن میں میڈیا سے گفتگو
انتظامی سہولیات
انتظامی طور پر یہ ایک ضلع کا درجہ رکھتا ہے اس لیے اسی مناسبت سے یہاں سرکاری دفاتر، انتظامی، محکمہ صحت اور تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ گجرات کی اپنی ایک سرکاری یونیورسٹی ہونے کے علاوہ پاکستان کی بڑی یونیوریٹیوں کے کیمپس بھی یہاں موجود ہیں۔ ایک میڈیکل کالج بھی ہے، اور یہاں ایک بہت ہی تاریخی اور مشہور زمیندارہ کالج بھی ہے۔ تعلیم عام ہے اور یہ وسطی پنجاب کے علاقے میں کافی تعلیم یافتہ افراد اور اپنی نسبتاً صاف ستھری ثقافت، تہذیب اور ادب کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ افتخار میموریل ٹینس چیمپئن شپ 2024، کھیلوں کے لیجنڈز کی حمایت
شجاعت کی مثالیں
اس شہر کے جانباز اور بہادر سپاہیوں میں دو عظیم نام، میجر راجہ عزیز بھٹی شہید اور میجر شبیر شہید شامل ہیں، جنہوں نے اپنی جرأت اور دلیری کے جھنڈے گاڑ کر پاکستان میں شجاعت کا سب سے اعلیٰ ایوارڈ نشان حیدر حاصل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: قطر 2026 کے لیے 24 ایل این جی کارگو منسوخ کرنے پر رضامند ہوگیا
خوبصورتی کی روایات
روایتی طور پر یہاں صنف نازک کے حسن کی بڑی دھوم ہے، اور پاکستان کی لوک داستان سوہنی مہینوال کے کردار بھی یہیں کے ہی تھے۔ غالباً ان ہی کی وجہ سے یہاں کی نسوانی خوبصورتی ایک خوبصورت استعارہ بن گئی ہے。
یہ بھی پڑھیں: تیسرا ون ڈے، ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو جیت کے لیے بڑا ٹارگٹ دے دیا
لالہ موسیٰ جنکشن
لالہ موسیٰ ایک مصروف اسٹیشن ہونے کے علاوہ ایک جنکشن بھی ہے جہاں سے ایک برانچ لائن شور کوٹ کو نکلتی ہے۔ یہ پنجاب کا ایک چھوٹا شہر ہے اور یہاں بھی گھریلو صنعت عروج پر ہے لیکن بڑی فیکٹریاں کم کم ہی ہیں۔ چونکہ جی ٹی روڈ بھی ریلوے لائن کے ساتھ چلتی ہے اس لیے یہاں تک سڑک کے ذریعے بھی آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ شہر اپنے دو گلوکار باپ بیٹے عالم لوہار اور عارف لوہار کے وجہ سے بھی پاکستان میں جانا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے
کھاریاں اور کھاریاں چھاؤنی
لالہ موسیٰ سے نکلتے ہی یکے بعد دیگرے یہ دو عام سے اسٹیشن آتے ہیں۔ کھاریاں کا شہر کافی متمول لوگوں کا علاقہ ہے کیونکہ یہاں سے اکثر لوگ روزگار کی خاطر بیرون ملک گئے اور پھر وہیں کے ہو رہے ہیں۔ خصوصاً سکنڈے نیوین ممالک میں تو یہاں کے بے شمار باشندے روزگار کے لیے مقیم ہیں۔ اس لیے کھاریاں کو چھوٹا ناروے بھی کہا جاتا ہے۔ غیر ممالک سے ترک وطن کر جانے والوں کی طرف سے رقم کی مسلسل ترسیلات کی بدولت یہاں پیسے کی خوب ریل پیل ہے۔
علیحدہ سرکاری و تعلیمی ادارے
یہاں ہر طرف خوبصورت عمارتیں، بڑے بڑے شاپنگ مال، پلازے اور شاندار بنگلے نظر آتے ہیں۔ ایک بڑا اور اہم تحصیل ہیڈکوارٹرز ہونے کی وجہ سے یہاں اسی سطح کے سارے سرکاری دفاتر اور ادارے موجود ہیں۔ مقامی لوگوں کے آمدنی کے اچھے وسائل کی وجہ سے یہاں شاندار اور اونچے درجے کے نجی تعلیمی اداروں کے علاوہ یونیورسٹیوں کے کیمپس بھی ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








