پنجاب میں روڈز کی تعمیر و مرمت کے 97 فیصد فنڈز کے بروقت استعمال کا مثبت ریکارڈ بن گیا، لاگت میں اوسطاً 20 فیصد کمی
پنجاب میں روڈز کی تعمیر ومرمت کے لیے فنڈز کا مثبت استعمال
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب میں روڈز کی تعمیر ومرمت کے 97 فیصد فنڈز کے بروقت استعمال کا مثبت ریکارڈ بن گیا، لاگت میں اوسطاً 20 فیصد کمی بھی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: زرعی شعبہ بحران کا شکار، ترقی کی شرح 6.4 سے گر کر 0.56 فیصد پر آ گئی
تاریخی پراجیکٹ کا آغاز
تفصیلات کے مطابق پہلی مرتبہ پنجاب کی 18 ہزار 700 کلو میٹر 1471 روڈز کی تعمیر وتوسیع اور مرمت کا تاریخی پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ 12 ہزار کلو میٹر طویل 1214 روڈز کی تعمیر مکمل کی گئی، جبکہ دسمبر تک 18 ہزار 700 کلو میٹر روڈز کی تعمیر مکمل کر لی جائے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت سی اینڈ ڈبلیو کے جاری پراجیکٹ سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا جس میں سی اینڈ ڈبلیو کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق اور پنجاب کا بجٹ عوام دشمن، پٹرول بم سے مہنگائی کا طوفان آئے گا: بیرسٹر سیف
فنڈز کا مؤثر استعمال
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں روڈز کی تعمیر ومرمت کے 97 فیصد فنڈز کے بروقت استعمال کا مثبت ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔ تعمیراتی مینجمنٹ کے ذریعے 600 ارب روپے کے روڈز کی صرف 70 ارب روپے میں تعمیر و مرمت کا کام کیا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ سی اینڈ ڈبلیو کے روڈ کنٹریکٹ کی لاگت میں اوسطاً 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس موقع پر پنجاب میں روایتی ٹھیکیداری نظام کے بجائے ڈیجیٹل ٹال سسٹم متعارف کرانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں اجلاس، ملیر جیل سے 200 سے زائد قیدیوں کے فرار پر آئی جی جیل خانہ جات کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت منصوبے
صوبے بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت 29 روڈز کی نشاندہی کر لی گئی اور 9 سڑکوں کو نجی اشتراک سے چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبہ بھر میں بلڈنگز کی تعمیر ومرمت کے 1193 پراجیکٹس مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ مراکز صحت کی تعمیر ومرمت کا پہلا فیز بھی مکمل ہوگیا۔ ملتان، بہاولپور اور سرگودھا میں پی سی سی آئی تھری کے پراجیکٹ مکمل ہوئے، جبکہ گارمنٹ سٹی قائد اعظم انڈسٹریل پارک بھی تکمیل کے قریب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 15 ہزار ماہانہ پر کام کرنے والا سابق سرکاری ملازم 30 کروڑ کے اثاثوں کا مالک نکلا
تعمیراتی معیار کی بہتری
روڈز پراجیکٹ میں تعمیراتی معیار برقرار رکھنے کے لیے جدید آلات متعارف کرائے جائیں گے۔ روڈز سرفیس پروفائلر، گراؤنڈ پینی ٹریشن ریڈار، اور فاسٹ فالنگ ویٹ ڈی فلیکٹو میٹر کے ذریعے نو تعمیر شدہ سڑکوں کی چیکنگ کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی جاری کر دی، افسران کی موجیں
اہم سڑکوں کے پروجیکٹس کا جائزہ
اجلاس میں قائد اعظم تا انٹرچینج تا واہگہ ٹورازم کوریڈور، پنڈی اڈیالہ روڈ اووہیڈ برج، جی پی او مال انڈر پاس، کرتاپور کوریڈور پراجیکٹس کابھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رواں مالی سال میں صوبہ بھر میں 255 ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کی تعمیر ومرمت کے 313 نئی سکیمیں شروع کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: جیلوں کی انسپکشن ،ڈسٹرکٹ جیل شاہ پور میں” خفیہ اطلاع “پر کارروائی ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو سمیت 3افسر معطل
ضلع کی سطح پر پیشرفت
اجلاس میں مختلف اضلاع میں سڑکوں کی مرمت کا جائزہ لیا گیا۔ ضلع جہلم میں 190 کلومیٹر، اٹک 340، سرگودھا 860، میانوالی 220، بھکر 570، گجرات 360 کلومیٹر کی سڑکیں کی جا چکی ہیں۔
وزیراعلیٰ کا ہدف اور عوامی خوشنودی
وزیراعلیٰ مریم نواز نے تمام جاری روڈز پراجیکٹ رواں مالی سال میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ 30 سال میں نہ بننے والی سڑکیں اب بننا شروع ہو گئی ہیں۔ عوام اور عوامی نمائندے پنجاب میں روڈز کی تعمیرو مرمت پر بے حد خوش ہیں۔
صوبائی وزیر صہیب بھرت اور سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سہیل اشرف کی ٹیم نے کمال کر دکھایا ہے۔








