شوریٰ سے منظوری کے بعد آئی اے ای اے سے معاہدہ معطلی پر عمل ہم پر لازم ہے: ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ معاہدے کی معطلی کا بل شوریٰ نگہبان سے منظوری کے بعد ہم پر لازم ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ادبی شخصیت اور ماہر تعلیم ڈاکٹر اسامہ صدیق کے ساتھ انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد
معاہدے کی معطلی کا اثر
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، عباس عراقچی نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ہمارا تعلق اور تعاون ایک نئی شکل اختیار کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا چین کو 220 ارب روپے سود کی ادائیگی سے انکار
قانونی پابندی اور نفاذ
انہوں نے مزید کہا کہ آئی اے ای اے کے ساتھ معاہدے کی معطلی کابل شوریٰ نگہبان سے منظوری کے بعد ہم پر لازم ہوگیا، ہم اس بل کے پابند ہیں اور اس کے نفاذ میں کوئی شک نہیں ہے۔
پارلیمانی بل کی توثیق
واضح رہے کہ ایرانی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد گزشتہ روز ایرانی شوریٰ نگہبان (Guardian Council) نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ایران کے تعاون کو معطل کرنے کے پارلیمانی بل کی توثیق کردی تھی。








