وزیراعلیٰ کا کام نہیں کہ وہ ہر کام کو دیکھے ہو رہا ہے یا نہیں، لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کی درخواستیں
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران فصلوں کی باقیات جلانے پر کم جرمانے عائد کرنے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشیں جاری
جرمانے کی تحقیقات
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق، جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق کی درخواستوں کی سماعت کی۔ عدالت کو جوڈیشل کمیشن کے ممبر نے بتایا کہ پندرہ ایکڑ زمین پر فصل کی باقیات کو آگ لگائی گئی، جس پر محکمہ زراعت نے صرف 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: قائم مقام گورنر کی گورنر ہاؤس آمد، کامران ٹیسوری دفتر کی چابیاں بھی بیرون ملک ساتھ لے گئے
عدالت کی تشویش
عدالت نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ جرمانے کی رقم کے تعین اور کارروائی کی شفافیت کے بارے میں مکمل تحقیقات عمل میں لائی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات ہو رہے ہیں کس سے ہو رہے ہیں یہ تو پارٹیاں بتا سکتی ہیں:شیخ رشید
نیسپاک کی طلبی
عدالت نے آئندہ سماعت پر نیسپاک کے سربراہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ نیسپاک کو جدید ہونا چاہیے کیونکہ یہ بڑے پروجیکٹ کرتا ہے اور اسے ماحولیات سے متعلق امور کا خیال رکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون کی بریت کے بعد پولیس ریکارڈ مینجمنٹ سے ریکارڈ ڈیلیٹ کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔
ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی کارکردگی
سماعت کے دوران عدالت نے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ آپ کو 250 موٹر سائیکلیں عطا کی گئی ہیں، مگر وہ سڑکوں پر کیوں نہیں نظر آ رہی ہیں؟ عدالت نے ٹیموں کی تعیناتی کی رپورٹ طلب کی۔
یہ بھی پڑھیں: راجہ بشارت گرفتار
حکومت کی ذمہ داری
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا کام نہیں کہ وہ ہر کام کو دیکھے۔ یہ چیک محکمے نے کرنا ہے اور حکومت نے آپ کو وسائل فراہم کر دیئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور ادارے ماحولیات کے حوالے سے اچھا کام کریں گے۔
سی بی ڈی کا کردار
عدالت نے کہا کہ سی بی ڈی کا بڑا اہم کردار ہے، انہوں نے چھوٹے درخت لگائے ہیں، سی پی ڈی کو بتانا ہوگا کہ بڑے سائز کے درخت کب اور کتنے لگائے جائیں گے۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ کے تدارک کے کیس کی سماعت 2 جولائی تک ملتوی کر دی۔








