ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کے آئندہ ہفتے مذاکرات کے دعوے کی تردید کردی
ایرانی وزیر خارجہ کا ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کی تردید
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے ایران سے آئندہ ہفتے مذاکرات کے دعوے کی تردید کردی۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کو کچھ وعدے کرکے باہر نکالا گیا، طاقتور حلقوں کے لیے فکر کی بات ہے: منیب فاروق
مذاکرات کے حوالے سے وضاحت
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے آئندہ ہفتے ایران سے مذاکرات کے دعوے کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ واضح کردوں کہ نئے مذاکرات شروع کرنے کے لیے کوئی معاہدہ، انتظام یا گفتگو نہیں ہوئی، مذاکرات شروع کرنے کے لیے کوئی منصوبہ طے نہیں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد: نجی سوسائٹی میں مالک مکان کے مبینہ تشدد سے 13سالہ ملازمہ جاں بحق
نیٹو سمٹ میں ٹرمپ کے بیان
نیٹو سمٹ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران اسرائیل تنازع اب ختم ہوچکا ہے، اب دونوں تھک چکے ہیں، دونوں جنگ کے خاتمے سے بہت مطمئن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں دوسرے روز بھی اضافہ، مزید 15ہزار 200 روپے فی تولہ مہنگا
ایرانی جوہری تنصیبات اور دباؤ کی پالیسی
ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات کی تباہی کے جائزے میں صرف اسرائیلی انٹیلی جنس پر انحصار نہیں کر رہے، ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی جاری رکھیں گے۔
معاہدے پر بات چیت کا امکان
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے ایران سے بات ہوگی اور معاہدے پر دستخط بھی ہو سکتے ہیں، میرے لیے معاہدہ ضروری نہیں، انہوں نے جنگ لڑ لی، اب واپس اپنی دنیا میں جا رہے ہیں، مجھے فرق نہیں پڑتا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔








