اسلام آباد: محسن نقوی کا اچانک دورہ نادرا میگا سنٹر، شہریوں کا سہولیات پر اظہار اطمینان
اسلام آباد میں نادرا میگا سنٹر کا دورہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے علاقے بلیو ایریا میں قائم 24/7 نادرا میگا سنٹر کا اچانک دورہ کیا اور وہاں شہریوں کے لیے فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، پشاور اور کوئٹہ کے بعد کراچی کنگز نے بھی پی ایس ایل فرنچائز معاہدے کی تجدید کردی
وزیر داخلہ کی شہریوں سے ملاقات
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق محسن نقوی نے شناختی کارڈز اور دیگر دستDocuments کے حصول کے لیے آئے شہریوں سے ملاقات کی اور ان سے فراہم کی جانے والی سہولتوں سے متعلق دریافت کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہندو اور سکھ طالبعلموں سے پاکستان کی محبت میں گرماگرمی اور دو دو ہاتھ بھی کر بیٹھتے پھر انکے سامنے ”لے کے رہیں گے پاکستان“ کے نعرے لگاتے
شہریوں کے تجربات
شہریوں نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ اب انتظار کی زحمت نہیں ہوتی اور باری جلد آجاتی ہے جبکہ عملہ بھی بھرپور تعاون کرتا ہے۔ شہریوں نے سہولتوں کی فراہمی پر وزیر داخلہ اور نادرا انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے آنے سے حالات مزید بہتر ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی ؛منٹورہ ہمالیہ پوائنٹ پر 5افراد سمندر میں ڈوب گئے،2جاں بحق
عملے کی کارکردگی کی تعریف
وزیر داخلہ نے نادرا میگا سنٹر کے شفٹ انچارج اور عملے کو شاباش دیتے ہوئے مزید محنت اور شہریوں کی خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت سے تعلق رکھنے والی ملعونہ خاتون سیاست دان نے قرآن پاک کی بے حرمتی کر دی
شہریوں کے مسائل کا فوری حل
محسن نقوی نے ویٹنگ ایریا اور مختلف کاؤنٹرز پر جا کر شہریوں سے براہ راست ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے جبکہ شناختی کارڈز کے حوالے سے شہریوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔
جدید خودکار مشین کا معائنہ
وزیر داخلہ نے جدید خودکار مشین کا معائنہ بھی کیا اور خود شناختی کارڈ نمبر فیڈ کر کے اور فنگر پرنٹس کے ذریعے خودکار نظام کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر محسن نقوی نے کہا ہے کہ خوشی ہے نادرا سنٹر میں شہریوں کو بغیر انتظار کے خدمات مل رہی ہیں، شہریوں کے لیے ہر سطح پر آسانیاں پیدا کرنے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔








