سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل سے سزا سنا دی گئی
سابق وزیر اعظم کی سزا
ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل سے توہین عدالت کیس میں 6 مہینے قید کی سزا سنا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس: ملزم کی ضمانت منظوری کا تحریری فیصلہ جاری
مقدمے کی تفصیلات
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل ون نے جسٹس غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں فیصلہ کیا۔ مقدمے میں شیخ حسینہ واجد کی مبینہ فون کال پر 227 افراد کے قتل کا بیان بنیاد بنایا گیا۔ شیخ حسینہ 5 اگست کو بھارت فرار ہو گئی تھیں اور تب سے وہیں مقیم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام پر دوستی کے ذریعے نوجوان نے 13 سالہ لڑکی کو اپنے جال میں پھنسالیا
فیصلے کی بنیاد
یہ فیصلہ آج 3 رکنی بینچ نے سنایا جس کی سربراہی جسٹس محمد غلام مرتضیٰ موزمدر کر رہے تھے۔ یہ فیصلہ گزشتہ سال سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک مبینہ آڈیو گفتگو کی بنیاد پر سنایا گیا، جس میں حسینہ کو گووند گنج کے سابق اپوزیشن چیئرمین شاکل اکندا بلبل سے یہ کہتے سنا گیا: "میرے خلاف 227 مقدمات درج ہیں، تو مجھے 227 لوگوں کو مارنے کا لائسنس مل گیا ہے۔" ٹریبونل نے اس بیان کو عدالتی عمل میں رکاوٹ اور عدالت کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا۔ شاکل بلبل کو اس گفتگو میں کردار ادا کرنے پر 2 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست بہار میں انتخابی نتائج پر راہول گاندھی کا ردعمل آ گیا
سزاؤں کی تنفیذ
"ڈیلی سٹار" نے ٹریبونل کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ سزائیں اس وقت نافذ ہوں گی جب مجرمان عدالت کے سامنے خودسپردگی کریں گے یا انہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار کریں گے۔ یہ سزائیں غیر سخت (Non-rigorous) قید کے زمرے میں آئیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی رائے بجٹ سے متعلق بہتر نہیں، معاشی ترقی کیلئے کیا ضروری ہے۔۔۔؟ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں بتا دیا
پراسیکیوشن کا مؤقف
آئی سی ٹی کے چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے 30 اپریل کو یہ معاملہ ٹریبونل کے سامنے پیش کیا۔ ان کے مطابق، مذکورہ گفتگو نہ صرف متاثرین اور گواہوں کو ڈرانے کی کوشش تھی بلکہ جاری مقدمات کو متاثر کرنے کا بھی ایک حربہ تھی۔ کریمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (CID) کی فرانزک رپورٹ سے تصدیق ہوئی ہے کہ آڈیو میں موجود آواز شیخ حسینہ واجد کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون محتسب پنجاب گوجرانوالہ پہنچ گئیں، اہم مقامات کا دورہ، 3 افسران کو شوکاز نوٹس جاری
عدالت کی کارروائی
ٹریبونل نے حسینہ اور بلبل کو 25 مئی تک وضاحت جمع کرانے کی ہدایت دی تھی، تاہم دونوں نے نہ عدالت میں حاضری دی اور نہ ہی کوئی تحریری بیان جمع کرایا۔ اس پر عدالت نے معروف اخبارات میں طلبی کے اشتہارات شائع کروا کر 3 جون کو پیش ہونے یا وکیل کے ذریعے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔
غیر موجودگی میں سزا
تاہم حسینہ کی جانب سے نہ خود پیشی ہوئی اور نہ ہی وکیل کے ذریعے کوئی جواب داخل ہوا، جس پر عدالت نے آج ان کی غیر حاضری میں سزا سنائی۔ یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد نے گزشتہ سال 5 اگست کو عوامی احتجاج کے بعد وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا، اور بعد ازاں بھارت فرار ہو گئیں۔








