حکومت کا ایران و عراق جانے والے زائرین کے لیے پروازوں میں اضافے کا فیصلہ
حکومت کا زائرین کے لئے سہولیات میں اضافہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے ایران و عراق جانے والے زائرین کیلئے پروازوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فیری سروس بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کیوں ہورہی ہے؟ صوبائی حکومت اس کا جواب دے، احسن اقبال
خصوصی ٹاسک فورس کا اجلاس
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر ایران و عراق جانے والے زائرین کے مسائل کے حل کیلئے قائم خصوصی ٹاسک فورس کا اہم اجلاس ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ اور ٹاسک فورس کے چیئرمین محسن نقوی نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا عید میلاد النبی ﷺ پر 5 اور 6 ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان
اجلاس میں شرکت
اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانیز چودھری سالک حسین اور وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ مختلف وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک مقیم پاکستانی گروپ نے پی آئی اے خریدنے کیلئے حکومت کو انتہائی دلکش پیشکش کر دی
زائرین کی سہولت و سکیورٹی کیلئے فیصلے
ٹاسک فورس کے اجلاس میں زائرین کی سہولت و سکیورٹی کیلئے اہم فیصلے کئے گئے، سول ایوی ایشن کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایران کیلئے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 15 کر دی گئی، جبکہ اربعین پر عراق کے لئے 107 خصوصی پروازوں کا انتظام کیا گیا ہے۔
اجلاس میں ایران و عراق جانے والے زائرین کے لئے پروازوں کی تعداد مزید بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بچے کی تنہا پرورش مشکل کام ہے: ثانیہ مرزا
فیری سروس کا آغاز
بریفنگ میں بتایا گیا کہ زائرین کو بہتر سفری سہولتیں فراہم کرنے کیلئے مستقبل میں فیری سروس شروع کی جا رہی ہے، عاشورہ کے بعد اربعین کیلئے سکیورٹی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد زمینی راستے سے سفر کی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سولہویں ابوظہبی واؤنڈ کیئر کانفرنس 2025 کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر، 39 ممالک سے 1400 سے زائد پروفیشنلز کی شرکت
زائرین کی حفاظت کی یقین دہانی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر زائرین کو کسی بھی قسم کی مشکل یا پریشانی سے محفوظ رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، زائرین کی حفاظت سب سے زیادہ عزیز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کا 8 ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ، بھارتی یکطرفہ اقدامات سے آگاہ کیا
نئے نظام کی شروعات
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم جنوری 2026 سے زائرین صرف گروپ آرگنائزرز سسٹم کے تحت زیارات کیلئے جا سکیں گے اور اس کے ساتھ ہی سالار سسٹم کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا، نئے نظام کے تحت گروپ آرگنائزرز کی رجسٹریشن کیلئے اب تک 1413 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن کی جانچ پڑتال اور اسکروٹنی کا عمل جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے پانی کے مسئلے پر اہم تجویز دیدی
غیر قانونی افراد کی روک تھام
وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے زائرین کی آڑ میں غیر قانونی طور پر عراق جانے والے افراد کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنائیں۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے افراد
اجلاس میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری مذہبی امور، وزارتِ اطلاعات اور وزارتِ خارجہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی سول ایوی ایشن، ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلوچستان، آئی جی بلوچستان، کمشنر کوئٹہ اور متعلقہ اداروں کے افسران بذریعہ زوم اجلاس میں شریک ہوئے۔








