برطانیہ؛ فلسطین ایکشن گروپ کے 20 سے زائد کارکن گرفتار
برطانیہ میں فلسطین ایکشن گروپ پر پابندی
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانیہ کی حکومت نے فلسطین ایکشن گروپ پر پابندی عائد کرنے کے بعد احتجاج کرنے والے 20 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: وہاب ریاض کو فی الحال کوئی نئی ذمہ داری نہیں سونپی جارہی، ترجمان پی سی بی کی وضاحت
پولیس کارروائی
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز نے غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ برطانوی پولیس نے 20 سے زائد افراد کو دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار کیا ہے کیونکہ انہوں نے فلسطین ایکشن گروپ کی حمایت کی تھی، جب کہ اس گروپ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے بشریٰ بی بی کے ویڈیو بیان کے بعد اہلیہ کو کیا کہا؟ تہلکہ خیز انکشاف
پابندی کی وجوہات
رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانوی حکومت نے گزشتہ ماہ رائل ایئرفورس بیس پر احتجاج اور توڑ پھوڑ کے بعد فلسطین ایکشن گروپ پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی کی کارروائی شروع کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل شیخ وقاص اکرم کے گھر پر پولیس کا چھاپہ
پابندی کا پس منظر
برطانیہ نے اس سے قبل حماس سمیت 81 تنظیموں پر برطانیہ کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی لگا دی ہے، اور قانون کے مطابق کالعدم تنظیم کی حمایت اور اس تنظیم کا کوئی نشان اٹھانے پر 14 سال قید یا جرمانہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ روزِ اول سے تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے، کچھ عناصر سانحہ گل پلازہ کو سیاسی فائدے کے لیے کیش کروانا چاہتے ہیں، شرجیل میمن
احتجاج اور ردعمل
حکومت کے اس اقدام کے بعد پارلیمنٹ سکوائر پر شہریوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی، جن میں سے چند نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر درج تھا: "میں نسل کشی کی مخالفت کرتا ہوں، میں فلسطین ایکشن کی حمایت کرتا ہوں۔"
گرفتاریاں اور مزید معلومات
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی دوران وہاں سے متعدد افراد کو ہتھکڑی لگا کر گرفتار کیا گیا جبکہ وہ گروپ کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین بھی اسرائیل کو غزہ میں فلسطین میں نسل کشی کا مرتکب قرار دے چکے ہیں جہاں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل نے جنگ مسلط کردی تھی اور یہ حالت اب تک جاری ہے۔








