جے یو آئی اور ہماری جنرل سیٹیں برابر تو مخصوص نشستیں کیوں نہیں؟ن لیگ کے وکیل کے الیکشن کمیشن میں دلائل
خصوصی نشستوں کی تقسیم کا معاملہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) الیکشن کمیشن میں کے پی سے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملے پر مسلم لیگ ن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی اور ہماری جنرل سیٹیں برابر ہیں تو مخصوص نشستیں کیوں نہیں؟ ہمیں 8 اور جے یو آئی کو 10 سیٹیں کیسے دی جا سکتی ہیں؟ دونوں جماعتوں کو 9،9 مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں تھیں۔ قانون کے مطابق نشستیں برابر ہونے پر ٹاس ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی 30-2025 کا باضابطہ اجرا کر دیا
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن میں کے پی سے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملے پر سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے سماعت کی۔ وکیل مسلم لیگ ن نے کہا کہ میرے امیدوار کو 22 فروری کو نوٹیفائی کیا گیا، اس کے 3 دن تو اسی روز سے شمار ہوتے ہیں، اب میرے امیدوار کو حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ جے یو آئی اور ہماری جنرل سیٹیں برابر تو مخصوص نشستیں کیوں نہیں، ہمیں 8 اور جے یو آئی کو 10 سیٹیں کیسے دی جا سکتی ہیں؟ دونوں جماعتوں کو 9،9 مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں تھیں، قانون کے مطابق نشستیں برابر ہونے پر ٹاس ہو سکتا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کا مؤقف
عوامی نیشنل پارٹی کے وکیل نے کہا کہ ضمنی انتخاب میں ہم ایک سیٹ جیتے ہیں، عام انتخابات کے نتائج کے مطابق نشستیں دی جائیں، ضمنی انتخابات کے مطابق نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن دو مراحل میں ہوئے، پہلے تو سنی اتحاد کونسل والا معاملہ حل نہیں ہوا تھا۔








