ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے 25 کھلاڑیوں کا پول تیار کیا ہوا ہے، کپتان سلمان علی آغا
پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان کی گفتگو
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان ٹیم منیجمنٹ نے 25 کھلاڑیوں کا پول تیار کیا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گنی بساؤ میں فوج نے کنٹرول سنبھال لیا
تیاریوں کا جائزہ
قومی ٹیم کی بنگلا دیش روانگی سے قبل آخری پریکٹس سیشن کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ ٹیم کے پاس ایسے کھلاڑی ہوں جو کسی بھی وقت دوسرے پلیئرز کی جگہ لے سکیں اور اس سوچ کے ساتھ وہ اپنی بینچ اسٹرینتھ بھی تیار کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ تعلیم کے میدان میں بہت آگے ہے، خواتین کیلئے یونیورسٹی اور میڈیکل کالج بھی ہے،یہاں گزرا ایک ایک دن خوبصورت لمحات کی یاد دلاتا ہے
مستقبل کی منصوبہ بندی
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مستقبل کا پلان کرتے ہوئے 25 کھلاڑیوں کا پول تیار کیا ہوا ہے، اور ورلڈ کپ تک ان ہی 25 کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھیں گے۔ سلمان آغا نے مزید کہا کہ شاہین آفریدی، بابر اعظم اور رضوان سینیئر پلیئرز ہیں اور ان کی شمولیت 25 کھلاڑیوں کے پول میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نواب صادق نے اپنے مرشد کیلئے ”سرائے فرید“ بھی تعمیر کی، اس کی تعمیر میں حصے لینے والے سبھی راج مزدور اور دوسرے کاریگر حافظ قرآن تھے
پرفارمنس اور چیلنجز
شاہین آفریدی کی پرفارمنس کسی کو گنوانے کی ضرورت نہیں، وہ پاکستان کے ایک اہم پلیئر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ٹیسٹ میں اچھا پرفارم کریں گے تو ٹیمیں ہمارے ساتھ زیادہ ٹیسٹ کھیلیں گی۔ ساتھ ہی سلمان آغا نے یہ بھی کہا کہ بنگلا دیش اپنی ہوم کنڈیشنز میں ایک مشکل حریف ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2026 ہائیکورٹ میں چیلنج
کیمپ کی تیاری
ٹی ٹوئنٹی کپتان نے کہا کہ آنے والے میچز کی کنڈیشنز کو ذہن میں رکھتے ہوئے کراچی میں کیمپ لگایا گیا ہے، کیونکہ یہاں اسپن کی اچھی کنڈیشنز موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی صورتحال کیا ہے؟
ذاتی توجہ
سلمان علی آغا نے کہا کہ وہ اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ آیا وہ اگلی سیریز میں کپتان ہوں گے یا نہیں؛ ان کا فوکس اپنی ٹیم کی بہترین کارکردگی پر ہوتا ہے۔
ٹنڈنگ لیگ
انہوں نے مزید کہا کہ کپتان اور کوچ کے ساتھ سسٹم میں بھی تسلسل ہونا چاہیے، ایک دو ماہ کی تبدیلیاں کچھ ثابت نہیں کرتیں، اور وہ پاکستان کرکٹ کو درجہ اول پر لے جانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔








