غيرت کے نام پر کسی کو بھی قتل کرنا شرعی لحاظ سے جائز نہیں ہے، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمٰن کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر کسی کو بھی قتل کرنا شرعی لحاظ سے ناجائز ہے، اس حوالے سے مجھے کوئی اختلاف یا تردد نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان نے عمران خان تک رسائی اور علاج کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا
اجلاس کا پس منظر
اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے قومی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قانون بناتے وقت عوامی نمائندے اپنی سوسائٹی کو دیکھتے ہیں اور اس کے مزاج کو پرکھتے اور اس کی ویلیوز کا احترام کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: المیہ یہ ہے کہ کھلے گٹر میں صرف ایک معصوم بچہ نہیں گرا بلکہ پاکستان کا پورا جمہوری نظام ہی اوندھے منہ اسی گٹر میں پڑا ہے، سراج الحق
قانون سازی کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ ہماری سوسائٹی میں یہ چیزیں قابل قبول نہیں ہو سکتیں، سوسائٹی کے اپنے اقدار ہیں، چاہے جاہلانہ ہیں، چاہے جو کچھ بھی ہیں، لیکن ہمیں سب کچھ مدنظر رکھ کر ایک متوازن قانون سازی کی طرف جانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: فجر شیخ پیا دیس سدھار گئیں
زنا اور نکاح کے معاملات
یہ بھی بالکل غلط ہے کہ آپ زنا کے لیے سہولیات پیدا کریں اور جائز نکاح کے لیے مشکلات پیدا کریں۔ یہ کون سا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں یہ بحث ہو رہی تھی کہ 18 سال سے کم عمر لڑکا، لڑکی اگر نکاح کرتے ہیں تو ان دونوں سمیت نکاح خواں، والدین اور گواہ، سب سزا کے مستحق ہوں گے۔
خطرات کی نشاندہی
ہمیں یہ جاننا ہے کہ یہ کس کا ایجنڈا ہے؟ جو جائز نکاح میں رکاؤٹیں کھڑی کر رہا ہے، اس طرح بے راہ روی کے لیے راستے کھلیں گے۔








