پاکپتن میں ڈکیتی کے دوران لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا سنسنی خیز موڑ
پاکپتن میں ڈکیتی کا واقعہ
پاکپتن (ویب ڈیسک) پاکپتن میں روڈ ڈکیتی کے دوران 16 سالہ لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آندھی اور بارش کے سبب قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، وزیر اعلیٰ مریم نواز کا پی ڈی ایم اے کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم
پہلا واقعہ
جیو نیوز کے مطابق 10 سالہ لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پاکپتن کے گاؤں ملک بہاول کے قریب 23 ستمبر کی رات پیش آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کی شمولیت کے بغیر اقتصادی ترقی ممکن نہیں،ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام تقریب ، خصوصی رپورٹ جاری
تحقیقات کا آغاز
ایس پی انویسٹی گیشن شاہدہ نورین نے میڈیا کو بتایا کہ لڑکی کے بھائی آصف عرف عاصم اور ان کے دیگر عزیزوں پر بہاولنگر میں زیادتی کے 5 مقدمات درج ہیں۔ یہ مقدمات کاؤنٹر کرنے کے لیے آصف عرف عاصم نے اپنی بہن شہزادی کے ذریعے ڈکیتی کے دوران اجتماعی زیادتی کا جھوٹا واقعہ بنایا اور اپنے مخالفین کو اس مقدمے میں نامزد کر دیا۔
پولیس کی تحقیقات
پولیس حکام کے مطابق لڑکی کی ڈی این اے رپورٹ منفی آئی، جبکہ لڑکی کا مبینہ طور پر چھینا گیا موبائل فون بھی اس کی ماں سے برآمد ہو گیا۔ جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کرنے پر کارروائی کی جائے گی۔








