راولپنڈی پولیس نے عمران خان کی بہنوں کو تحویل میں لے لیا
علیمہ خان اور نورین نیازی کی حراست
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پولیس نے بانیٔ پی ٹی آئی کی بہنوں، علیمہ خان اور نورین نیازی، کو داہگل ناکے پر تحویل میں لے لیا۔ پولیس ان دونوں کو وین میں لے کر چکری انٹرچینج کی جانب روانہ ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا، سیکیورٹی عہدیدار کی صحافیوں سے گفتگو
دھرنے کا انعقاد
علیمہ خان نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر دھرنا دیا ہوا تھا۔ اس دھرنے کی وجہ سے اڈیالہ روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور گاڑیوں کی بڑی تعداد میں قطاریں لگ گئیں۔ دھرنے میں سلمان اکرم راجہ، نیاز اللّٰہ نیازی، نعیم پنجوتھا اور دیگر وکلاء بھی علیمہ خان کے ہمراہ موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران دور حکومت میں مجھ پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنا کر گرفتار کیا گیا ، جیل میں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی اور علاج کی سہولت سے محروم رکھا، یہ دنیا مکافات عمل ہے،مفتی کفایت اللہ
میڈیا سے گفتگو
علیمہ خان نے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کے ساتھ مل کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت چاہے تو وہ رات 12 بجے بھی بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کروا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں 3 ماہ اور دیگر بہنوں کو 6 ہفتوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ علیمہ خان نے مزید کہا کہ "آج ہم اڈیالہ جیل ملاقات کے لیے آئے تھے، مگر ہمیں جیل سے دور روک دیا گیا۔ اگر ہمیں حراست میں لینا ہے تو لے لیں، ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ انصاف کے لیے ہم کہاں جائیں۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں ملاقات کرنے نہیں دی گئی تو وہ دھرنا ختم نہیں کریں گی۔
دھرنے کا اختتام
بعد میں بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اڈیالہ جیل سے واپس لوٹ گئے اور دھرنے کے باعث اڈیالہ روڈ کو کلیئر کرکے ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی۔ تاہم علیمہ خان اپنی بہن نورین نیازی کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر موجود رہیں۔ پولیس حکام نے علیمہ خان اور نورین نیازی سے واپس جانے کی درخواست کی مگر انہوں نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔








