خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے: سہیل شوکت بٹ
تشدد کے خاتمے کی حکومت کی ترجیحات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب سہیل شوکت بٹ نے کہا ہے کہ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کو حکومت کی اولین ترجیح بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کے قریب عمران خان کی بہنوں کا دھرنا، پولیس نے کارکنان کی گرفتاریاں شروع کردیں
شیلٹر ہومز کی سہولیات
وہ لاہور میں اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کے زیر اہتمام، محکمہ سوشل ویلفیئر پنجاب اور شراکت دار اداروں کے تعاون سے منعقدہ صوبہ پنجاب میں شیلٹر ہومز کی سہولیات اور ضروریات پر پہلی جامع کاسٹنگ سٹڈی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے صدر طیب اردوگان نے خیبر پختون خوا میں دہشت گرد حملے کی مذمت
محفوظ پناہ گاہ کا تصور
انہوں نے کہا کہ محفوظ پناہ گاہ صرف چار دیواری کا نام نہیں بلکہ یہ متاثرہ خواتین کے لیے نجی جگہ، نفسیاتی و جذباتی سہارا، آگاہی خدمات اور خود انحصاری کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ ہیں۔ شیلٹر ہومز کے انفراسٹرکچر کی بہتری، عملے کی کمی کو پورا کرنے، فیملی رومز کی فراہمی، معذور خواتین کے لیے رسائی، تربیت یافتہ جی بی وی کیس ورکرز، چائلڈ پروٹیکشن آفیسرز اور ماہر نفسیاتی معاونین کی تعیناتی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: منشیات سپلائی کرنے والے مجرم کو 9 سال قید کی سزا
نئی سہولیات اور اقدامات
سہیل شوکت بٹ نے بتایا کہ لاہور اور راولپنڈی کے ویمن پروٹیکشن سینٹرز کی مرمت، بہاولپور، سرگودھا اور ساہیوال میں نئی سہولیات کی فراہمی، اور 1737 جی بی وی ہیلپ لائن سے بہتر رابطہ قائم کرنا محکمہ سوشل ویلفیئر کی ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے سامنے تو گمشدگی کا ابھی تک کوئی کیس نہیں آیا، آپ کے حلقے میں کیا یہ ایک ایشو رہ گیا ہے؟ جسٹس اعجاز انور کا شاندانہ گلزار سے استفسار
سرمایہ کاری کی سفارشات
اس موقع پر پیش کی گئی سٹڈی میں شیلٹر ہومز اور ویمن پروٹیکشن سینٹرز کی اپ گریڈیشن، معذور خواتین و بچوں کے لیے خصوصی سہولیات، پرائیویسی اور کونسلنگ اسپیسز، اور عالمی معیار کی خدمات کے لیے 2.31 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی سفارش کی گئی۔
اجلاس میں شرکاء
تقریب میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر جاوید اختر محمود، ڈائریکٹر جنرل ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کلثوم ثاقب، FCDO کے نمائندے سعید الحسن، UNFPA کے نمائندگان، بین الاقوامی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔








