خواجہ آصف: پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں دھاوا دشمن قوتوں کے حملے کی علامت
خواجہ آصف کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طالبان پی ٹی آئی کے سہولت کار ہیں اور ان کے مسلح افراد پی ٹی آئی کے ساتھ آرہے ہیں۔ ہم ان مسلح جتھوں کا ہر قیمت پر جواب دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پرویز الہٰی سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر
پریس کانفرنس کی تفصیلات
اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں سے کہا تھا کہ آپ کو جو بھی احتجاج یا جلسہ کرنا ہے وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے بعد کرلیں، لیکن وہ بضد رہے۔ ان کا مقصد اس کانفرنس کی عزت افزائی کو ناکام کرنا ہے، ورنہ وہ احتجاج دس دن بعد کرلیتے۔
یہ بھی پڑھیں: او پی ایف کسی دباؤ، سفارش یا سیاسی مفاد کے بغیر اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بنے گی، افضال بھٹی
حفاظتی اقدامات
انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں ہوگا بس ہنگامہ ہوگا، وہ چاہتے ہیں دو چار لاشیں گریں اور ہماری کوشش ہے کہ انہیں کوئی لاش نہ ملے اور کسی کی جان نہ جائے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت پولیس کو اسلحہ نہ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیس ؛ وکلاء صفائی کے جرح نہ کرنے پر ملزمان پر 5،5ہزار روپے جرمانہ عائد
پی ٹی آئی کا دھاوا
خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد پر پی ٹی آئی کا دھاوا دشمن قوتوں کا حملہ سمجھتے ہیں۔ طالبان کے مسلح جتھے پی ٹی آئی کے ساتھ آرہے ہیں، ہم ان مسلح جتھوں کا ہر قیمت پر جواب دیں گے اور انہیں الٹا کر ان سے حساب لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں ایودھیا رام مندر کے نام پر کروڑوں روپے کا فراڈ، بہانہ ایسا کہ سمجھ نہ آئے کہ ہنسیں یا روئیں
وزیراعلیٰ کا کردار
وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں۔ سینکڑوں افغان باشندے بھی اس جتھے کا حصہ ہیں اور یہ مسلح جتھے ملکی وقار کو نشانہ بنانے کے درپے ہیں۔ طالبان پی ٹی آئی کے سہولت کار ہیں۔
عمران خان کی دعوت
خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آگیا۔ انہوں نے کس بنیاد پر بھارتی وزیر خارجہ کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دی؟ پی ٹی آئی والے دل میں جاکر جلسہ کریں اور مودی کو بلالیں۔ پی ٹی آئی کا والی وارث جے شنکر اور مودی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کو اپنے احتجاج میں مدعو کرنا پی ٹی آئی کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے، حالانکہ ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہم عالمی فورمز پر آمنے سامنے ہوں تو ہاتھ ملانے سے گریز کرتے ہیں۔








