قومی ٹیم کی سلیکشن میں میرا کوئی کردار نہیں، کسی بھی کرکٹر کی پرفارمنس ایسی نہیں تھی کے اسے اے کیٹیگری میں رکھا جاتا، محسن نقوی
محسن نقوی کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کا کہنا ہے بھارت سے تعلقات میں ہم کلیئر ہیں، اب ان کے ساتھ برابری کی سطح پر بات ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 46 ہزار سرپلس اساتذہ، 15 جولائی سے ریشنلائزیشن کا عمل شروع کیا جائے گا: رانا سکندر حیات
قومی ٹیم کی سلیکشن
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ قومی ٹیم کی سلیکشن میں میرا کوئی کردار نہیں، سلیکٹرز اور ایڈوائزری کمیٹی طویل مشاورت کے بعد کھلاڑیوں کی شمولیت یا انہیں اسکواڈ سے باہر کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، مجھے ان کے فیصلوں پر اعتماد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: منٹہ بھی جنکشن ہوا کرتا تھا، پھر وہی انجام ہوا جو درجنوں بدقسمت برانچ لائنوں کا ہوا، پتہ ہی نہ چلا اور ایک دن چپ چاپ ہی یہ لائن بھی مر کھپ گئی
کپتان محمد رضوان کا مستقبل
ون ڈے ٹیم کے کپتان محمد رضوان کے مستقبل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ دورہ ویسٹ انڈیز کی رپورٹ ہیڈ کوچ نے جمع کروا دی ہے، کپتان کے مستقبل کا فیصلہ سلیکشن کمیٹی کرے گی۔ قومی سلیکشن کمیٹی کو کہا ہے کہ انصاف پر مبنی فیصلے کریں، میں اسے سپورٹ کروں گا، ہماری کوشش ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیں تاکہ مقابلے کی فضا پیدا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: شہید ذوالفقار علی بھٹو نے آئین کی تیاری اور منظوری میں تعمیری کردار ادا کیا ، وزیر اعظم
سینٹرل کنٹریکٹس کی صورتحال
سینٹرل کنٹریکٹس میں کسی بھی کرکٹر کو ’اے کیٹیگری‘ نہ دینے کے سوال کے جواب میں چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کی پرفارمنس ایسی نہیں تھی کے اسے اے کیٹیگری میں رکھا جاتا۔ مجھے امید قومی ٹیم ایشیا کپ کے دوران بہترین کارکردگی دکھائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی کا وائیڈ بال قانون میں تبدیلی کا فیصلہ، ٹرائل کا آغاز جلد ہوگا
کھلاڑیوں پر تنقید
محسن نقوی نے میڈیا سے کھلاڑیوں پر تنقید نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ قومی کرکٹرز پر بلا وجہ تنقید نہ کریں، اس سے وہ مایوس ہو جاتے ہیں، ایک ہی میچ کے بعد کھلاڑیوں کو آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے، جب تک ٹورنامنٹ ختم نہ ہو کھلاڑیوں پر تنقید نہ کریں۔
ویمن ٹیم کی پرفارمنس
ویمن ٹیم کی پرفارمنس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امید ہے قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کارکردگی اب بہتر ہوگی، کیونکہ وہاں سے بھی سیاست کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔








