باجوڑ آپریشن سے متاثرہ پاکستانی شہری کو افغانستان ڈی پورٹ کرنے کی کوشش ناکام
اسلام آباد کی خبر
اسلام آباد (ویب ڈیسک) باجوڑ آپریشن سے متاثرہ پاکستانی شہری ابراہیم کو افغانستان ڈی پورٹ کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی، یہ انکشاف صحافی کامران علی نے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر سیف نے علی امین کی ‘گمشدگی’ کو حکمت عملی قرار دیا
معاملے کی تفصیل
سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرتے ہوئے کامران علی نے لکھا کہ "باجوڑ آپریشن سے متاثرہ ابراہیم کو راولپنڈی پولیس نے افغان مہاجر سمجھ کر حراست میں لیا اور گھر والوں اور باجوڑ انتظامیہ سے تصدیق کے باوجود ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کرکے انہیں افغانستان بارڈر منتقل کردیا گیا لیکن وزیر اعظم کے معاون خصوصی باجوڑ کے ایم این اے مبارک زیب کی مداخلت پر ابراہیم کو واپس اسلام آباد کے لیے روانہ کردیا گیا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اسی دوران خیبرپختونخوا حکومت کہاں تھی؟ کیا یہ پنجاب پولیس کی نااہلی ہے یا پھر بدمعاشی؟"
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے: بھارتی سابق وزیر داخلہ
سوشل میڈیا پر رد عمل
پنجاب پولیس کی نااہلی یا بدمعاشی؟؟؟
باجوڑ آپریشن سے متاثرہ ابراہیم کو راولپنڈی پولیس نے افغان مہاجر سمجھ کر حراست میں لیا اور گھر والوں اور باجوڑ انتظامیہ سے تصدیق کے باوجود ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کرکے انہیں افغانستان بارڈر منتقل کردیا گیا۔
لیکن اب وزیر اعظم کے معاون خصوصی باجوڑ… pic.twitter.com/iDASm5cju7— Kamran Ali (@akamran111) September 3, 2025
یہ بھی پڑھیں: زمین کی نگرانی کے لیے بھارت اور امریکہ نے مل کر نیا سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا
صحافی عبید بھٹی کا رد عمل
ان کے اس ٹوئیٹ پر صحافی عبید بھٹی نے بھی داستان شیئر کی اور اوپر بیان کی گئی کارروائی کو بدمعاشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نااہلی نہیں بلکہ بدمعاشی ہے۔
عبید بھٹی نے ایک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے روز رات 10 بجے کے قریب راولپنڈی چاندنی چوک برج کے ساتھ لنڈے کے جوتے بیچنے والی ریڑھیاں لگتی ہیں، وہاں انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پولیس کی گاڑی آئی۔ جوتے بیچنے والے تمام پختون ریڑھی والوں کے شناختی کارڈ چیک کیے گئے۔ ایک لڑکے کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا اور باقی لوگوں نے بتایا کہ وہ پاکستانی ہے مگر اس لڑکے کو ساتھ لے جایا گیا، باقی ریڑھی والوں سے پیسے بھی لیے گئے۔
مزید تفصیلات اور مجبوریاں
یہ نااہلی نہیں بدمعاشی ہے۔ تصدیق ہونے کے باوجود یہ سب کرنا بدمعاشی ہی ہے۔
گزشتہ ہفتے کے روز رات 10 بجے کے قریب راولپنڈی چاندنی چوک برج کے ساتھ لنڈے کے جوتے بیچنے والی ریڑھیاں لگتی ہیں، جوتے دیکھنے وہاں رکا تھا۔ اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے دیکھا کہ پولیس کی گاڑی آئی۔ https://t.co/WvVkwVdStV— Obaid Bhatti (@Obibhatti) September 3, 2025








