پی ٹی آئی کا بائیکاٹ اپنے ممبران پر عدم اعتماد ہے: رانا ثناء اللہ
رانا ثناء اللہ کا بیان
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کے رہنما اور مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن اراکین نے رابطہ کر کے مجھے ووٹ دینے کا کہا، پی ٹی آئی کا بائیکاٹ اپنے ممبران پر عدم اعتماد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں حالات سنگین رخ اختیار کر چکے ہیں، تمام سیاسی قوتیں اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی پر یکجا ہوں، سراج الحق
پی ٹی آئی کا غیر جمہوری رویہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا رویہ غیر جمہوری اور غیر سیاسی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اندھی تقلید کرنے والے صرف فتنہ و فساد اور انتشار چاہتے ہیں۔ حکومت یا کسی ادارے کو نہیں، پوری قوم کو ان کا راستہ روکنا چاہیے، پی ٹی آئی کے پاس راہ فرار کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون نے سی پیک میں نئی توانائی کا جذبہ پیدا کیا
ووٹنگ کے حوالے سے رابطے
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 10 سے 12 لوگوں نے مجھ سے ووٹ ڈالنے کیلئے رابطہ کیا، میں نے انہیں منع کیا کہ مجھے نہیں، اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، اکتوبر کے مہینے میں بھی ہیٹ ویو جیسی صورتحال
بدتمیزی کا کلچر
ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت نے ایک پالیسی کے طور پر لعن طعن کے کلچر کو اپنایا، اور مخالف کو دیکھ کر گالیاں دینا ان کی عادت بن گئی۔ بانی پی ٹی آئی کو شرف حاصل ہے کہ تاریخ میں شاید وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے بطور پالیسی اوئے توئے کے کلچر کو اپنایا۔
یہ بھی پڑھیں: بعض قلی اتنے ضعیف اور نڈھال ہوتے ہیں کہ سامان اٹھا کر لڑ کھڑاتے پھرتے ہیں دھڑکا لگا رہتا ہے کہیں خود ہی نہ گر جائیں یا سامان نیچے نہ پھینک دیں
سیاست اور مذاکرات
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بطور پالیسی اپنے لوگوں کو مجبور کیا کہ مخالف کو دیکھیں تو چور کہیں۔ یہ سیاسی رویہ اپنائیں تو ہم سیاست کے لئے حاضر ہیں۔ وزیراعظم خود چل کر گئے ہیں اپوزیشن کے پاس کہ آئیں، ہم بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ سیاست ہمیشہ مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈ لاک سے نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہندو اور سکھ طالبعلموں سے پاکستان کی محبت میں گرماگرمی اور دو دو ہاتھ بھی کر بیٹھتے پھر انکے سامنے ”لے کے رہیں گے پاکستان“ کے نعرے لگاتے
بیرونی خطرات اور قیادت کی ذمہ داری
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو جب بیرونی خطرات لاحق تھے تو بانی پی ٹی آئی سننے کو تیار نہیں تھے۔ معرکہ حق کی کامیابی سیاسی اور عسکری قیادت کے اتفاق رائے سے ممکن ہوئی، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نظر آئی۔
یہ بھی پڑھیں: ریمنڈ ڈیوس کیس کا پانچواں حصہ، ویڈیو ڈاکٹر نوید الٰہی
علیمہ خان کا واقعہ
مشیر وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ علیمہ خان کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ان کا جو حق ہے وہ ان کو مل رہا ہے۔ ہمارا گلہ پی ٹی آئی سے ہے کہ انہوں نے بدتمیزی کے کلچر کو بطور پالیسی اپنایا۔
ضمنی انتخاب کی صورتحال
یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی سینیٹ نشست پر ضمنی انتخاب آج ہو رہا ہے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ووٹ کاسٹ نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے.








