نیپال میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران جیلوں سے 13 ہزار 500 سے زائد قیدی فرار
نیپال میں قیدیوں کی بڑی تعداد کی فراری
کھٹمنڈو (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیپال میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ملک بھر کی جیلوں سے 13 ہزار 500 سے زائد قیدی فرار ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: ہیڈ خانکی میں تاریخ میں پہلی مرتبہ 10 لاکھ کیوسک سے بڑا پانی کا ریلہ، ہیڈ قادرآباد میں پانی نکالنا بڑا چیلنج، شگاف ڈالنے کی تیاری
پولیس کی ہلاکتیں
نیپالی پولیس کے ترجمان بنود گھمائرے نے اے ایف پی کو بتایا کہ "منگل کے روز تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 13 ہزار 500 سے زیادہ قیدی مختلف جیلوں سے فرار ہوگئے"۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صوبے سیستان میں 8 معصوم پاکستانیوں کا بہیمانہ قتل انتہائی تکلیف دہ امر ہے:وزیراعلیٰ مریم نواز
سیکیورٹی کی صورتحال
بدھ کے روز دارالحکومت کھٹمنڈو کی سڑکوں پر فوجی دستے تعینات کیے گئے تاکہ امن و امان بحال کیا جا سکے۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کو آگ لگا دی تھی اور وزیرِاعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ گزشتہ دو دہائیوں میں ملک کو درپیش بدترین پرتشدد واقعات قرار دیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامک سولیڈیرٹی گیمز 2025 سے وطن واپسی پر اتھلیٹس ارشد ندیم اور یاسر سلطان کا ایئرپورٹ پر لیسکو کی جانب سے والہانہ استقبال
مظاہروں کی ابتدا
مظاہرے پیر کو کھٹمنڈو میں سوشل میڈیا پر پابندی اور بدعنوانی کے خلاف شروع ہوئے تھے، تاہم حکومتی کریک ڈاؤن میں 25 افراد کی ہلاکت کے بعد احتجاج ملک بھر میں شدت اختیار کر گیا اور سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔
بدامنی کی بڑھتی ہوئی صورت حال
ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بدامنی نے سب کو حیران کر دیا ہے، جبکہ نیپالی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ ایسی سرگرمیوں سے ملک عدم استحکام اور شدید انتشار کا شکار ہوسکتا ہے۔








