پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ بظاہر ماضی کے دفاعی معاہدوں کی ہی توسیع دکھائی دیتا ہے، تجزیہ کار فاران جعفری
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) دفاعی تجزیہ کار فاران جعفری نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نئے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بظاہر ماضی کے دفاعی معاہدوں کی ہی توسیع دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی قوت کے طور پر مضبوط ہونا دفاعی قوتوں کا نہیں عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، مولانا فضل الرحمان
معاہدے کی تفصیلات
ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان، ضرورت پڑنے پر سعودی عرب میں مقدس مقامات کے تحفظ میں کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں سندھ کو پیپلز پارٹی کی کرپشن سے بچانا ہے ، بہت جلد ’’سندھ بچاؤ۔۔۔ کرپشن مٹاؤ‘‘مارچ نکالیں گے،حلیم عادل شیخ
سعودی عرب کی ممکنہ مدد
فاران جعفری نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کی صورت میں کیا سعودی عرب پاکستان کے دفاع کے لیے آگے آئے گا، تاہم عملی طور پر ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں خوفناک بس حادثہ: تصادم کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی
معاہدے کے فوائد
انکے مطابق، اس معاہدے کا اصل فائدہ سعودی عرب کو پاکستانی افرادی قوت اور دفاعی تعاون کی شکل میں ہوگا جبکہ پاکستان کو اس کے بدلے سعودی سرمایہ کاری اور سفارتی حمایت ملے گی۔
خلاصہ
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے حال ہی میں دفاعی معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ، دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔








