بشریٰ بی بی عین کی بڑی فین تھیں مگر وہ بھول گئیں کہ اسی عین کا عاصم اصل محافظ تھا، سینئر صحافی سہیل وڑائچ
جنرل عاصم کی خصوصیات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ جنرل عاصم میں عاجزی، عزم اور عقل تینوں کا اشتراک نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اظہارِ رائے کی آزادی ہے لیکن ’ریڈ لائن‘ عبور کرنے پر کارروائی ہوگی، اعظم نذیر تارڑ
بشریٰ بی بی کا نقطہ نظر
دلچسپ بات یہ ہے کہ بشریٰ بی بی عین کی بڑی فین تھیں اور وہ عمران، عثمان بزدار، صدر عارف علوی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کے عین کو اپنی حکومت کا محافظ سمجھتی تھیں۔ مگر وہ بھول گئیں کہ اسی عین کا عاصم اصل محافظ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا ایران کی قومی خواتین فٹبال ٹیم کو واپس ایران بھیج کر ایک سنگین انسانی غلطی کر رہا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
علم الاعداد اور عین کا تجزیہ
سوشل رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے اپنے تازہ کالم کا لنک بھی شیئر کیا ہے، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ فیلڈ مارشل کے نام کا عین اور عاصم بمعنی محافظ بھی قابل غور ہے۔ علم الاعداد میں عین کو 6 نمبر دیئے جاتے ہیں۔ جنرل عاصم تین متضاد خوبیوں سے اس میں کامیاب جارہے ہیں: عجز، عزم اور عقل۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی صحافی ارناب گوسوامی کو بڑا جھٹکا، جھوٹی خبریں چلانا بہت مہنگا پڑ گیا
عاجزی اور عزم کا امتزاج
وُہ ملنے میں عاجز ہیں مگر جب کسی بات کا عزم کرلیتے ہیں تو پھر اس بات سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹتے۔ عام طور پر عاجز اشخاص باعزم نہیں ہوتے اور باعزم عاجز نہیں ہوتے، مگر فیلڈ مارشل میں یہ عزم اور عاجزی دونوں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جج سے بات نہ ہونے پر علیمہ خان کمرہ عدالت میں بانی کے فوکل پرسن پر برہم
جنرل عاصم کی عقل
تیسرا عین جو جنرل میں موجود ہے وہ عقل ہے۔ بیک وقت باعزم اور عقل مند ہونا بھی کم ہی دیکھنے میں آتا ہے مگر جنرل عاصم میں عاجزی، عزم اور عقل تینوں کا اشتراک نظر آتا ہے۔
بشریٰ بی بی کا عین اور اس کا اثر
دلچسپ بات یہ ہے کہ بشریٰ بی بی کے عین کو پاکستانی بساط پر مات کا سامنا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے عین کو عروج ہے کہ ان کی گڈی چڑھی ہوئی ہے۔
جنرل عاصم میں عاجزی، عزم اور عقل تینوں کا اشتراک نظر آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بشریٰ بی بی عین کی بڑی فین تھیں اور وہ عمران، عثمان بزدار، صدر عارف علوی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کے عین کو اپنی حکومت کا محافظ سمجھتی تھیں مگر وہ بھول گئیں کہ اسی عین کا عاصم اصل محافظ تھا…
— Suhail Warraich (@suhailswarraich) September 20, 2025








