سامنے دیوار کے ساتھ کھڑے ہو اور سیب سر پر رکھو اور میرا نشانہ چیک کرو
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 296
یہ بھی پڑھیں: سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حمید الرویلی کا جی ایچ کیو کا دورہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات
دفتری عملے کے ساتھ تجربات
میں اب دفتری عملے میں گھل مل گیا تھا۔ ظہور پی ایس، اشرف راؤنڈوی ٹیلی فون اپرئیٹر(یہ رائے ونڈ کا رہنے والا تھا اور”رائے ونڈوی“ نام میں نے ہی اسے دیا تھا۔) سرفراز کمپیوٹر آپریٹر، سیلم جو نئیر کلرک، سیلم سنئیر، سنئیر کلرک، اورنگ زیب سٹاف کار ڈرائیور، اکرم گن مین اور جاوید وائریس آپرئیٹر تھا۔ (سبھی بھلے مانس اور محنتی تھے۔) بعد میں محمد عارف بھی بطور وائرلیس آپرئیٹر آ گیا تھا۔ ایلیٹ(25) سکواڈ کی گاڑی ہمارے ساتھ ہوتی جس کا انچارج اوکاڑہ کا رہنے والا ہنس مکھ حوالدار َ عبدالرازق تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا انسداد دہشتگردی کے مؤقف پر پاکستان کی حمایت کا اعلان
دفتری دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا
اس کے ساتھ 4 جوان (خرم، اشرف، اجمل بٹ) اور ظفر ڈرائیور تھا۔ سبھی بڑے تا بعدار، چاق و چوبند اور زندہ دل تھے۔ ان سے اچھی فرینک نس تھی۔ ایک بار رزاق سے اس کا پستول لیا اور کہا: "سامنے دیوار کے ساتھ کھڑے ہو اور سیب سر پر رکھو اور میرا نشانہ چیک کرو۔" اس کا زور دار قہقہ فضا میں گونجا اور وہ بولا؛ "سر! سیب بچ ویسی پر ماں دا اکلوتا پتر مارا ویسی۔" اکثر بتایا کرتا تھا؛ "سر! گھر جانداں تے ماں دیسی گھیو دی روٹی تے سالن کھلاندی اے۔" بے شک ماؤں سے ہی بہار ہے اور پھر خزاں۔
یہ بھی پڑھیں: شکر ہے سب ماؤں کے لال گھروں کو لوٹ آئے،وزیراعلیٰ پنجاب کا کیڈٹ کالج وانا کے طلباء اور اساتذہ کی بحفاظت بازیابی پر اظہار تشکر
ذاتی ترقی اور تجربات
میرے خون میں دغا نہیں؛
زندگی کا پہلا ڈی او لیٹر یہیں لکھا اور پھر اگلے 5 سال سینکڑوں ایسے لیٹر لکھے۔ پہلی بار منسٹر کے ساتھ ان کے گھر طفیل روڈ آ یا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی جارحیت کے خلاف فتح نے یکا یک سب کچھ بدل کر رکھ دیا
جھنڈے والی گاڑی کی سواری
جھنڈے والی کار میں سفر اب روٹین بن گیا تھا۔ آگے پولیس گارڈ ہوتی تھی۔ اللہ نے جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھنے کی میری بچپن کی خواہش پوری کر دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: خورشید شاہ کی طبیعت ناساز، ہسپتال منتقل
راجہ صاحب کے ساتھ گفتگو
راستے میں مجھے راجہ صاحب سے بات کرنے کا موقع ملا۔ میں نے کہا؛ "سر! میرے خون میں دغا نہیں۔ صرف وفا ہے۔" مختلف گفتگو کے دوران، انہوں نے مجھ سے پوچھا؛ "آپ کھانا کھائیں گے؟" اور جواب دیا؛ "جی سر۔"
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے سپیکر ایاز صادق کی ملاقات کی دعوت قبول کرلی
امتحان اور موصولہ تعریف
تھوڑی ہی دیر میں دو لوگوں کے لئے کھانا میز پر چن دیا گیا۔ اب نمک حلالی واجب ہو گئی تھی۔ واپسی پر کہنے لگے؛ "شہزاد صاحب! میں نے پانچ سات دن آپ کا امتحان لیا۔ آپ اس پر پورے اترے تھے۔ آپ میں کام کرنے کی صلاحیت بھی ہے اور سمجھ بھی۔" یہ گفتگو بڑی حوصلہ افزاء تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو 2 ہفتے کی ڈیڈ لائنز دینے کا شوق ہے، بی بی سی
شاندار مراسم کا سفر
آج 20 سال بیت گئے ہیں میرے اور راجہ صاحب کے شاندار مراسم ہیں۔ وہ چھوٹے بھائیوں کی طرح سمجھتے ہیں۔ ایک اور بات بھی ان کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ آج تک انہوں نے مجھے شہزاد صاحب کہہ کر ہی پکارا۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








