زیرک سیاستدان ہیں کبھی لوز شاٹ نہیں کھیلتے، سیاست اور عملی زندگی کی اونچ نیچ سے خوب واقف ہیں بلکہ اونچے نیچے راستے کے ماہر کھلاڑی ہیں
مصنف کی شناخت
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 297
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے یکم مئی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کردیا
صاحب کی شخصیت
”صاحب؛“ صاحب خاندانی آدمی ہیں۔ سمجھدار، پڑھے لکھے، خوش لباس، خوش گفتار۔ انہیں معلوم ہے کہ کس سے، کب، کہاں کیا بات کرنی ہے۔ وضع دار انسان ہیں جس کی گواہی ان کے مخالفین بھی دیتے ہیں۔ عزت کرتے اور احترام پاتے ہیں۔ زیرک سیاست دان ہیں کبھی لوز شاٹ نہیں کھیلتے۔ سیاست اور عملی زندگی کی اونچ نیچ سے خوب واقف ہیں بلکہ اس اونچے نیچے راستے کے ماہر کھلاڑی ہیں۔ راز کو راز رکھنا جانتے ہیں اور دوستوں کے اعتماد پر پورا اترتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سینٹرل کمانڈ نے KC-135 ری فیولنگ طیارے کو عراق میں حادثے اور تمام عملے کی ہلاکت کی تصدیق کر دی
یادگار نصیحتیں
مجھے انہوں نے دو باتیں سمجھائی تھیں۔ پہلی؛ زندگی میں ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ دوسرا؛ یاد رکھیں عورت مرد کی 3 باتوں پر مر مٹتی ہے۔:
- پہلی: اس کی طاقت یعنی اختیار
- دوسری: اس کی دولت
- تیسری: شکل و صورت
میں نے دونوں ہی باتیں پلے باندھ لی تھیں۔ پرویز الٰہی صاحب سے ان کی انتہائی قربت تھی اور دونوں کا تعلق ”گوڑی“ سہیلیوں جیسا تھا جن سے کوئی بات بھی مخفی نہیں ہوتی۔ میں نے سیاست دانوں میں ایسا اعتماد کم کم ہی دیکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوچیں، ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو کیا ہوچکا ہوتا؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو
راجہ لال خان کا تعارف
یہ ہے مختصر تعارف راجہ لال خان کے پرنس آف ویلز، گارڈن کالج کے گریجوئیٹ، پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے ڈگری ہولڈر، سابق چیئرمین ضلع کونسل راولپنڈی، پنجاب کے وزیر قانون، بلدیات و پبلک پراسیکیوشن محمد بشارت راجہ کا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ناشتے کے خواب دیکھنے والوں کو شاہینوں نے مکمل ضیافت بھارت میں بھجوا دی: عظمیٰ بخاری
سیاسی حیثیت
پنجاب میں ان کی حیثیت نائب وزیر اعلیٰ کی سی تھی۔ چیف منسٹر ملک سے باہر جاتے تو صوبے کا انتظام صاحب کے حوالے کر جاتے۔ واپسی پر کچھ حاسد لوگ سی ایم سے شکایت کرتے کہ ”آپ کے بعد تو راجہ صاحب خود کو سی ایم ہی سمجھتے ہیں۔“ سی ایم مسکرا دیتے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس، سادگی اور بچت پر مبنی لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت
پرویز الٰہی کی ٹیم
پرویز الٰہی کی ایک بات جو مجھے بے حد پسند تھی؛ ”ان کی ٹیم میں افسر شاہی کے بہترین دماغ تھے اور وہ خود کو ان کی معیت میں بڑا comfortable محسوس کرتے تھے۔“ میں نے دیکھا کہ بہت سے سیاست دان اپنے ساتھ نالائق لوگوں کو رکھتے تاکہ ان کی اپنی ذہانت چھپی رہے۔ مگر اس کے برعکس پرویز الٰہی صاحب کے ساتھ شاندار اور قابل افسروں کی ٹیم تھی۔ ان کے سیاسی مخالف بھی مانتے تھے کہ ان کی ٹیم بہترین تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد، مدرسہ اور قرآن کے طلباء کے لئے’ قرآن ریکارڈ‘
تشہیر کی کمزوری
پرویز الٰہی کی ایک کمزوری یہ تھی کہ انہوں نے جتنے اچھے کام کئے ان کی تشہیر مناسب طور پر نہ کر سکے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے پی آر ٹیم (پبلک ریلیشن) کمزور تھی جس کا سربراہ بنیادی طور پر فوٹوگرافر تھا۔ اس کام کو سنبھالنے کی نہ وہ اہلیت رکھتا تھا نہ ہی قابلیت۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا جھوٹی خبریں چلا رہا ہے، میں نے کسی سے معذرت نہیں کی، محسن نقوی
سیاست دانوں کے تجربات
ہاں، ان پانچ سالوں میں سیاست دانوں کو میں نے بہت قریب سے دیکھا۔ ان پانچ سالوں کے تجربے کا نچوڑ یہ جملہ ہے;
”سیاست کے کھلاڑی جو کہتے ہیں کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں کہتے نہیں۔“
اس ملک ایک المیہ اور بھی ہے؛”سبھی با اختیار لوگوں کا ضمیر بے اختیار ہو کر ہی جاگتا ہے۔“ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








