گردشی قرض سے متعلق معاہدہ، بجلی صارفین پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا؛ وزارت خزانہ
اسلام آباد میں اہم معاہدہ
وزارت خزانہ نے بجلی کے شعبے میں 1225 ارب روپے کے گردشی قرض سے متعلق معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ معاہدے کو مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رحیم یار خان کے قریب ٹریفک حادثہ، 4 مسافر جاں بحق، وزیر اعلیٰ پنجاب کا اظہار افسوس
ٹاسک فورس کی کامیابی
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی قیادت میں ٹاسک فورس نے توانائی بحران کے بڑے چیلنج پر قابو پا لیا۔ وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے معاہدہ طے پایا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ گھر میں الیکٹرک موٹر سائیکل چارجنگ کے دوران آگ بھڑک اٹھی
قرض کی تفصیلات
وزارت خزانہ کے مطابق 660 ارب روپے کے پرانے قرضے ری سٹرکچر جبکہ 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ کا معاہدہ ہوا ہے۔ صارفین پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور ادائیگیاں پہلے سے عائد تین روپے 23 پیسے فی یونٹ سرچارج سے ہوں گی.
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش، مارگلہ ہلز کے ٹریلز بند، ندی نالوں میں طغیانی، راول ڈیم کے سپل وے کھول دیئے گئے
سرمایہ کاری کے مواقع
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 660 ارب روپے کی گارنٹیز سے زرعی، ایس ایم ای، ہاؤسنگ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری ممکن ہوگی۔
وزیر خزانہ کا بیان
وزیر خزانہ کے مطابق یہ کامیابی مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی شعبے کے دیرینہ مسائل کو پائیدار اصلاحات کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے.








