پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ (HS-1) 19 اکتوبر 2025 کو لانچ کیا جائے گا: سپارکو
پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (SUPARCO) نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ (HS) چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر (JSLC) سے 19 اکتوبر 2025 کو لانچ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں پولیس والے ڈکیتیاں کر رہے ہیں، این سی سی آئی اے اپریل 2025 میں بنی اور ملک میں افراتفری مچا رکھی ہے، شیر افضل مروت کا الزام
تاریخی مشن کا آغاز
سپارکو کی ترجمان نے بتایا کہ یہ تاریخی مشن پاکستان کے قومی خلائی پروگرام میں ایک انقلابی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو ملک کو جدید خلائی ٹیکنالوجی کے اس دور میں داخل کرے گا۔ زراعت، آفاتِ سماوی سے نمٹنے، شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی نگرانی جیسے اہم شعبوں میں سیٹلائٹ ڈیٹا کلیدی کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سکھر ملتان موٹروے پر 200 کلومیٹر تک لگے جدید کیمرے چوری ہو گئے
زراعت میں جدید ہائپر اسپیکٹرل ڈیٹا کا کردار
زرعی شعبے میں، HS سیٹلائٹ جدید ہائپر اسپیکٹرل ڈیٹا کے ذریعے پریسژن فارمنگ کو ممکن بنائے گا۔ یہ سیٹلائٹ فصلوں کی صحت، مٹی کی نمی، اور آبپاشی کے پیٹرن سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرے گا، جس سے فصل کی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ اور غذائی تحفظ میں خاطر خواہ بہتری ممکن ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: حج 2026 کے اخراجات میں کسی بھی مد میں بچت ہوئی تو وہ ریلیف براہ راست حجاج کرام کو منتقل کریں گے، سردار محمد یوسف
شہری ترقی اور ماحولیاتی نگرانی
شہری ترقی کے لیے، سیٹلائٹ کے جدید سینسر ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی، انفراسٹرکچر میپنگ، اور شہری پھیلاؤ کا تجزیہ کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔ یہ مصنوعی ڈھانچوں کے منفرد اسپیکٹرل سگنیچر حاصل کرکے پائیدار شہری منصوبہ بندی، زمین کے استعمال کے تجزیے اور وسائل کے مؤثر انتظام میں معاون ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: حمزہ علی عباسی کا بچپن میں سنگین بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف
قدرتی آفات کے انتظام میں مدد
ماحولیاتی نگرانی اور قدرتی آفات کے انتظام کے شعبوں میں، HS ایک اہم اوزار کے طور پر کام کرے گا جو پیشگی انتباہ اور تیز ردِعمل میں مدد دے گا۔ یہ سیٹلائٹ سیلاب کی پیش گوئی، زمین کھسکنے (لینڈ سلائیڈز) کی نگرانی اور جغرافیائی خطرات کے تجزیے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، خاص طور پر قراقرم ہائی وے اور شمالی پاکستان کے علاقوں میں۔
نقصانات کا جائزہ اور وسائل کی منصوبہ بندی
یہ سیٹلائٹ آفات کے بعد نقصان کے جائزے، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے تجزیے، اور آبی وسائل کی منصوبہ بندی میں بھی مدد فراہم کرے گا، تاکہ سیلاب، زلزلے، جنگلات کی کٹائی اور زمین کے بگاڑ سے متعلق بروقت معلومات حاصل کی جا سکیں۔ ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ کی شمولیت سے پاکستان کا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ نظام مزید مضبوط اور مؤثر ہو جائے گا۔








