پاکستان نے اپنا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ HS-1 کامیابی کے ساتھ چین سے خلا میں روانہ کردیا
پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ HS کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے اپنا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ HS کامیابی کے ساتھ چین سے خلا میں روانہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خصوصی رپورٹ انٹرویوز کی بنیاد پر ہے اور جو مواد ہمیں ملا، اس کا صرف 10 فیصد رپورٹ میں ہے، بشریٰ تسکین کا موقف آگیا۔
ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ کی خصوصیات
تفصیلات کے مطابق سپارکو نے HS کے کامیاب لانچ کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد پاکستان خلائی ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔ ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ زمین، سبزے، پانی، اور شہری علاقوں کا تفصیلی تجزیہ کرے گا۔ جدید سیٹلائٹ سینکڑوں نوری بینڈز میں درست تصاویر حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ سے زرعی منصوبہ بندی اور ماحولیاتی نگرانی میں انقلاب کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیل کے اندر بانی پی ٹی آئی کی مختلف بیماریوں کا علاج ہوتا رہا ہے، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک
چیئرمین سپارکو کا پیغام
چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان کا قوم کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کی حمایت سے قومی منصوبہ حقیقت بن سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ سے فصلوں، مٹی اور پانی کے معیار کی درست نگرانی ممکن ہوگی اور جنگلات کی کٹائی، آلودگی، اور گلیشیئر پگھلنے کی مانیٹرنگ میں مدد حاصل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں دستی بم حملہ اور فائرنگ، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی
سی پیک منصوبوں میں معاونت
مزید برآں، سی پیک منصوبوں میں جغرافیائی خطرات کی نشاندہی میں HS معاون ثابت ہوگا۔ اس سے پاکستان اور چین کے خلائی تعاون کا بھی نیا باب رقم ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر بھارت کو سیاست سے نہیں روک سکتے تو آئی سی سی کو بند ہوجانا چاہیے، سعید اجمل
پاکستان کی خود انحصاری کی جانب ایک قدم
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا خلائی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی جانب مضبوط قدم ہے۔ سپارکو ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اپنا کردار مزید مستحکم کر رہا ہے اور ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ پاکستان کے خلائی پروگرام میں بڑی پیش رفت ہے۔ ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ HS ملک کو پائیدار ترقی کے لیے ابھرتے ہوئے خلائی رہنماؤں میں شامل کرے گا۔
سیٹلائٹ کی مدار میں داخل ہونے کی تفصیلات
انہوں نے بتایا کہ سیٹلائٹ آج ہی اپنے مخصوص مدار میں داخل ہوجائے گا۔ پاکستان کی جانب سے اس سال یہ خلا میں بھیجا جانے والا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔ سیٹلائٹ کی اپنے مدار میں ٹیسٹنگ کو دو ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے بعد سیٹلائٹ مکمل فعال ہو جائے گا۔








