جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم پر اعتراضات اٹھا دیئے۔
سپریم کورٹ کے ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ پر اعتراض
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز جسٹس منصور اور جسٹس منیب اختر نے کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم پر اعتراضات اٹھا دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے زرعی سائنسی شہر یانگ لنگ میں 300 کے قریب پاکستانی گریجویٹس کا خیرمقدم
ترمیمی رولز کی منظوری پر تحفظات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق جسٹس منصور اور جسٹس منیب اختر نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط میں لکھا کہ موجودہ تشکیل کے ساتھ ترمیمی رولز کی منظوری نہیں ہوسکتی تھی۔ کچھ ججز پالیسی میکنگ کمیٹی میں رولز پر پہلے رائے دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ، چھٹیوں میں کلاس رومز کا استعمال، ہیڈ ٹیچر نے سرکاری پرائمری اسکول کو پیاز کے گودام میں بدل دیا
جسٹس سرفراز ڈوگر کی شمولیت پر اعتراض
دونوں ججز کی جانب سے کونسل میں جسٹس سرفراز ڈوگر کی شمولیت پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ خط کے مطابق اجلاس سے پہلے خط لکھا تھا کیونکہ جسٹس ڈوگر کے معاملے پر اپیل زیر التوا ہے۔ جسٹس ڈوگر کو نکال کر کونسل کی تشکیل نو ہونی چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بِندی لگانے پر تنازع، شمون عباسی بشریٰ انصاری کے دفاع میں سامنے آگئے
عدلیہ کی آزادی پر ترمیمات کے اثرات
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ترامیم اپنا لی گئیں تو یہ عدلیہ کی آزادی کو محدود کردے گی۔ 26 ویں ترمیم ابھی سپریم کورٹ میں چیلنج ہے، اور کونسل کے دو ممبران کا مستقبل بھی اس کیس کے ساتھ طے ہونا ہے۔
بین الاقوامی اقدار کے خلاف ترامیم
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مجوزہ ترمیم سے عدلیہ کی آزادی کو کمزور، شفافیت کو محدود اور اختیارات کو ایک شخص تک محدود کیا جا رہا ہے۔ ترامیم بین الاقوامی اقدار کے بھی خلاف ہیں۔ یہ ترامیم خطرناک اس لیے بھی ہیں کہ ان کا دائرہ اختیار مبہم ہے، اور یہ مخصوص ججز کی آواز دبانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔








