الخدمت فاؤنڈیشن نے دیوالی کی مناسبت سے 1400 ہندو خاندانوں میں تحائف تقسیم کر دیے
الخدمت فاؤنڈیشن کی دیوالی تقریبات
لاہور (ڈیلی پاکستان) الخدمت فاؤنڈیشن نے دیوالی کی مناسبت سے 1400 ہندو خاندانوں میں دیوالی تحائف تقسیم کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: میرا حساب کیوں ہو، میں ہوں کس حساب میں؟
خصوصی تقریبات کا انعقاد
اِس حوالے سے مظفر گڑھ، بہاولپور، رحیم یار خان، سانگھڑ، گھوٹکی اور تھرپارکر میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقریبات میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے نائب صدور ذکراللہ مجاہد، سید احسان اللہ وقاص اور ہندو برادری کے ڈاکٹر شنکر لال نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِاعظم کا بنگلہ دیش نیشنل اسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، انتخابی کامیابی پر مبارکباد، دورے کی دعوت
تحائف کی تقسیم
تقریبات کے دوران 1400 ہندو خاندانوں میں راشن بیگز، مچھر دانیاں، ہائی جین کٹس اور جوتے فراہم کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو 10 ارب ڈالر سے زائد غیر ملکی قرضے موصول، یو اے ای کے 2 ارب ڈالر رول اوور پر ابہام برقرار
ذکر اللہ مجاہد کا خطاب
ذکر اللہ مجاہد نے تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن ملک بھر میں بلا تفریق رنگ و نسل دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ پاکستان میں رہنے والے ہندو محب وطن ہیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اقلیتی برادری کی خوشیوں میں شریک ہونے کا مقصد بین المذاہب یکجہتی اور مثبت روایات کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اعظم سواتی کے خلاف اسلام آباد میں 15 مقدمات درج، درخواست نمٹا دی گئی
پچھلے کارنامے
الخدمت اب تک 45 ہزار سے زائد خاندانوں میں دیوالی اور کرسمس کے تحائف تقسیم کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس اور چین نے سلامتی کونسل میں آبنائے ہُرمز کھلوانے کی بحرین کی قرارداد کو ویٹو کردیا
سید احسان اللہ وقاص کا پیغام
سید احسان اللہ وقاص نے ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ معاشرے میں فرقہ واریت، تعصب اور نفرت کے بجائے باہمی احترام، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔ جس طرح عیدین کے مواقع پر مسلمانوں میں تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں اسی طرح دیوالی اور کرسمس کے موقع پر بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر شنکر لال کا شکریہ
اِس موقع پر ڈاکٹر شنکر لال نے ہندو برادری کی جانب سے الخدمت کا شکریہ ادا کیا اور الخدمت فاؤنڈیشن کی انسانیت کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔








