طالبان رجیم کو چاہیے کہ اپنے انجام کا حساب ضرور رکھیں، پاکستان کے عزم اور صلاحیتوں کو آزمانا ان کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوگا: خواجہ آصف
وزیر دفاع کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ برادر ممالک، جنہیں طالبان حکومت مسلسل درخواست کر رہی تھی، ان کی درخواست پر، پاکستان نے امن قائم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش قبول کی، تاہم بعض افغان حکام کے زہریلے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان حکومت میں انتشار اور دھوکہ دہی بتدریج موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چاول کی قیمتیں بھی بڑھنے لگیں
پاکستان کی حکمت عملی
تفصیلات کے مطابق خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان واضح کرتا ہے کہ اسے طالبان رجیم کو ختم کرنے یا انہیں غاروں میں چھپنے پر مجبور کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں، البتہ طالبان رجیم کی اگر خواہش ہو تو تورا بورا میں ماضی کی شکست کے مناظر، جہاں وہ دم دبا کر بھاگے تھے، دوبارہ دیکھنا یقیناً اقوام عالم کے لیے ایک نیا دلچسپ منظر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو چاہیے اس کا نام آپریشن سہاگ رات رکھ دے’’ پاکستانی صحافی کا ایسا ٹویٹ کہ جنگ کے ماحول میں بھی آپکو ہنسی آجائے
افغانستان کی موجودہ صورت حال
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان رجیم صرف اپنی قابض حکمرانی برقرار رکھنے اور جنگی معیشت کو بچانے کے لیے افغانستان کو ایک اور تنازعے میں دھکیل رہی ہے۔ اپنی کمزوری اور جنگ کے دعوؤں کی کھوکھلی حقیقت کو بخوبی جاننے کے باوجود، وہ طبل جنگ بجا کر بظاہر افغان عوام میں اپنی بگڑتی ہوئی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اگر افغان طالبان پھر بھی دوبارہ افغانستان اور اس کے معصوم عوام کو تباہ کرنے پر مصر ہیں تو پھر جو بھی ہونا ہے وہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کا آج (جمعرات) کا دن ستاروں کی روشنی میں کیسا رہے گا؟
خواجہ آصف کا ٹویٹ
برادر ممالک، جنہیں طالبان حکومت مسلسل درخواست کر رہی تھی، کی درخواست پر، پاکستان نے امن قائم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش قبول کی۔
تاہم بعض افغان حکام کے زہریلے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان حکومت میں انتشار اور دھوکہ دہی بتدریج موجود ہے۔
پاکستان واضح کرتا ہے کہ اسے طالبان…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 29, 2025
یہ بھی پڑھیں: نجی بینک کی شکایت پر ایف آئی اے کی تحقیقات شروع ہوگئیں
پاکستان کے عزائم
خواجہ آصف نے کہا کہ جہاں تک 'graveyard of empires' کے بیانیے کا تعلق ہے، پاکستان خود کو ہرگز empire نہیں کہتا لیکن افغانستان، طالبان کی وجہ سے اپنے ہی لوگوں کے لیے ایک قبرستان سے کم نہیں۔ یہ کبھی سلطنتوں کا قبرستان تو نہیں رہا، البتہ ہمیشہ بڑی طاقتوں کے کھیل کا میدان ضرور رہا ہے۔ پاکستان طالبان کے جنگجوؤں کو خبردار کرتا ہے کہ اپنے ذاتی فائدے کے لیے خطے میں بدامنی کے لیے جو کام وہ کر رہے ہیں، انہوں نے شاید پاکستانی عزم اور حوصلے کو غلط انداز میں لیا ہے۔
نتیجہ
انہوں نے کہا کہ اگر طالبان رجیم لڑنے کی کوشش کرے گی تو دنیا دیکھے گی کہ ان کی دھمکیاں صرف دکھاوا ہیں۔ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ یا خودکش حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور کسی بھی مہم جوئی کا جواب سخت اور کڑوا ہوگا۔ طالبان رجیم کو چاہیے کہ اپنے انجام کا حساب ضرور رکھیں، کیونکہ پاکستان کے عزم اور صلاحیتوں کو آزمانا ان کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوگا۔








