ٹکٹ کانپور بار ایسوسی ایشن نے خریدے، بھارتی قلیوں نے گھیرے میں لے لیا، سوچا ”شانِ پنجاب ریل گاڑی“ ہم پنجابیوں کی شان کے مطابق ہو گی۔
مصنف کے بارے میں
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 207
یہ بھی پڑھیں: جرمنی سے ملنے والی 1800 سال پرانی ایسی چیز جو یورپ میں عیسائیت کی تاریخ بدل سکتی ہے
ریلوے کی کہانی
ہمارے ریلوے کے ٹکٹ کانپور بار ایسوسی ایشن نے خرید کیے تھے۔ ریلوے سٹیشن پہنچ کر ہم ابھی اپنا سامان گاڑیوں سے اتار ہی رہے تھے کہ بھارتی قلیوں کے ایک پورے دستے نے ہمیں گھیرے میں لے لیا۔ میں نے بھاؤ تاؤ کے لیے سامان سمیت ارشاد چودھری اور سرفراز سید کو قلیوں کے حوالے کیا اور خود ٹکٹوں کے حصول کے لیے ظفر علی راجا کو ساتھ لے کر سٹیشن کے اندر داخل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ، 13 سالہ بچے کو حقیقی والدین سے لے کر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا حکم
ٹکٹوں کی خریداری
کتابوں کی دکان کے مالک شرما جی اس وقت دکان پر موجود نہیں تھے لیکن ان کے سیلزمین ہمارے منتظر تھے جس نے ٹکٹ ہمارے حوالے کرنے میں قطعاً دیر نہیں لگائی۔ اتنے میں ارشاد چودھری اور سرفراز سید قلیوں کے قافلے کی فاتحانہ انداز میں قیادت کرتے ہوئے سٹیشن کے اندر داخل ہوئے۔ وفد کے باقی ارکان قلیوں کے پیچھے پیچھے حفاظتی دستے کے طور پر چل رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے خلیج عمان میں آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا، عملے کے 18 افراد بھی زیر حراست
خواتین کا دستہ
اس کے عقب میں خواتین کا دستہ تھا جس کی قیادت گلے میں کیمرہ لٹکائے سجاد محمود بٹ فرما رہے تھے۔ ارشاد چوہدری صاحب نے یہ خوشخبری سنائی کہ انہوں نے قلیوں کو 800کی بجائے 500 بھارتی روپے یعنی پاکستانی کرنسی میں ساڑھے آٹھ سو روپے پر راضی کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: گاڑی چلاتے 14 سالہ بچے نے تباہی مچا دی، کئی موٹر سائیکل اور گاڑیاں تباہ، ایک شخص جان سے گیا
ریلوے سٹیشن کی صورت حال
ریلوے سٹیشن پر ایک الگ دنیا آباد تھی۔ جنکشن ہونے کی وجہ سے مختلف پلیٹ فارموں پر کئی مسافر گاڑیاں اپنی اپنی منزل کی جانب روانگی کے لیے کھڑی تھیں۔ بھارت کو دنیا کا سب سے بڑا اور منافع بخش ریلوے نظام چلانے کا اعزاز حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سوات میں سیاحوں کی موت نہیں بلکہ تحریک انصاف کے نظام کی موت ہوئی ہے، عطا اللہ تارڑ
معلومات کا سلسلہ
مسافر گاڑیاں اور مال گاڑیاں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ یہ گاڑیاں پہلے سٹیشن سے چل کر سینکڑوں مقامات تک ٹھہرتی ہوئی آخری منزل تک ہزاروں میل کا سفر طے کرتی ہیں جو بھارت کے مسافروں اور تجارتی سامان کو لانے لیجانے میں مصروف ہیں۔ ادھر مائیک پر گاڑیوں کی آمدورفت کے اعلانات تواتر کے ساتھ ہو رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ اسمبلی نے شراب خانوں پر پابندی اور خرید و فروخت کیخلاف قرارداد مسترد کردی
شتابدی گاڑی کی تفصیلات
شتابدی گاڑی کی تعریف ہم نے پاکستان میں بھی سن رکھی تھی۔ یہ ایک خاص تیز رفتار ائیر کنڈیشنڈ ریل گاڑی ہے جس کی نشستیں جہاز کی طرح آرام دہ اور ایڈجسٹ ایبل ہیں۔ ائیر ہوسٹس کی طرح ریل ہوسٹس کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے کے لیے کمربستہ رہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کو جیت کے لیے 172 رنز کا ہدف دے دیا
ہماری منتخب گاڑی
مذکورہ وجوہات کی بنا ء پر ہم نے اپنے میزبانوں کو اسی گاڑی کی بکنگ کے لیے کہا تھا لیکن ہمیں بتایا گیا کہ ایڈوانس بکنگ مکمل ہو جانے کے باعث کوشش بسیار کے باوجود شتابدی کے ٹکٹ دستیاب نہیں ہو پائے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ایبٹ آباد کے مقامی رہنما موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے زخمی
شانِ پنجاب کی خوشی
ہم نے دل میں سوچا کہ شانِ پنجاب ریل گاڑی ہم پنجابیوں کی شان کے مطابق ہو گی۔ ہم نے شان پنجاب کے ٹکٹ پر نظر ڈالی تاکہ اپنا سیٹ نمبر اور بوگی نمبر ذہن نشین کر لیں۔ ہمارے وفد کے 3 ارکان 60 سال سے زائد کے تھے ان کی سیٹ کے آگے سینئر سیٹزن لکھا تھا اور کرائے میں خصوصی رعایت دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سفارت خانہ پاکستان ریاض میں معرکہء حق یومِ تشکر کی تقریب
سفر کا آغاز
امرتسر سے گاڑی کی روانگی کا ٹائم 3 بجکر10 منٹ لکھا تھا۔ ٹھیک تین دس پر ایک لمبی گاڑی پلیٹ فارم کے پہلو میں نمودار ہوئی۔ ہم بوگی کے دروازے کے ساتھ کھڑے تھے۔ مسافروں کے ہجوم نے ہمیں قدم اٹھانے کی زحمت دئیے بغیر دھکیل کر بوگی میں داخل کر دیا۔
سفر کا اختتام
اپنی سیٹوں کو تلاش کرنے اور بیٹھ کر سانس لینے کے بعد ہم اپنے قلیوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اْٹھے ہی تھے کہ شانِ پنجاب ایک شانِ بے نیازی سے ہماری اگلی منزل دہلی کی جانب رینگنے لگی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








