پی آئی اے ایئرکرافٹ انجینئرز کا احتجاج، قومی ایئر لائن کا بین الاقوامی آپریشن شدید متاثر
پی آئی اے اور ایئرکرافٹ انجینئرز کے درمیان تنازع
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی آئی اے انتظامیہ اور ایئرکرافٹ انجینئرز کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا، ایئر کرافٹ انجینئرز نے طیاروں کی کلیئرنس روک دی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے اسرائیل پر تازہ میزائل حملے میں 30 سے زائد افراد زخمی
پروازوں کی متاثرہ تعداد
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز ذرائع کے مطابق ایئرکرافٹ انجینئرز کے احتجاج کی وجہ سے قومی ائیرلائن کی پروازیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ گزشتہ رات 8 بجے کے بعد سے قومی ایئرلائن کی 6 بین الاقوامی پروازیں روانہ نہیں ہو سکیں، جس سے 12 بین الاقوامی پروازیں متاثر ہونے کے نتیجے میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ مسافروں میں ایک بڑی تعداد عمرہ زائرین کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی پی فیصل آباد شعبہ خواتین کی ضلعی صدر کے جواں سال بیٹے کا انتقال، صدر مملکت کا اظہار تعزیت
پروازوں کی صورت حال
احتجاج کی وجہ سے لاہور سے ابوظہبی اور اسلام آباد سے دمام اور دبئی جانے والی پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: مغل بادشاہ اکبر کے آخری ایام: باغی بیٹے کے ساتھ اختلافات کی کہانی
ایئرکرافٹ انجینئرز کے مطالبات
سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز کے مطابق، وہ سی ای او قومی ایئرلائن کا رویہ ٹھیک ہونے تک کام نہیں کریں گے اور انہوں نے طیاروں کو اڑان کیلئے کلیئرنس دینے سے روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوات میں زمین کا تنازع، بھائیوں نے ایک دوسرے پر گولیاں چلادیں، 2 جاں بحق
طویل احتجاج کا پس منظر
ذرائع سیپ کے مطابق ایئر کرافٹ انجینئرز اپنے مطالبات کے حق میں ڈھائی ماہ سے بازو پر کالی پٹیاں باندھ کر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ طویل پُرامن احتجاج کے باوجود قومی ایئرلائن کی انتظامیہ بات کرنے کیلئے تیار نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ پر لندن میں مبینہ قاتلانہ حملہ، یوٹیوبر نے ویڈیو جاری کر دی
قومی ایئر لائن کا ردعمل
ترجمان قومی ایئر لائن (پی آئی اے) نے ردعمل میں کہا کہ سوسائٹی آف ائیر کرافٹ انجینئرز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، اس تحریک کا مقصد پی آئی اے کی نجکاری کو سبوتاژ کرنا ہے۔ پی آئی اے لازمی سروسز ایکٹ نافذ ہے، کام چھوڑنا قانونی طور پر جرم ہے۔
متبادل اقدامات
ترجمان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ متبادل انجینئرنگ خدمات دوسری ایئر لائنز سے حاصل کر رہی ہے اور جلد ہی تمام پروازیں روانہ کر دی جائیں گی۔








