اسلام آباد ہائی کورٹ کی خاتون جج جسٹس ثمن رفعت کیخلاف توہین عدالت درخواست خارج
اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج جسٹس ثمن رفعت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی کے لیے ہائبرڈ قبول کر لیا، بھارتی میڈیا کا بڑا دعویٰ
درخواست کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس خادم حسین سومرو نے کلثوم خالق ایڈووکیٹ کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کرنے کا تحریری حکمنامہ جاری کیا۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔ مزید برآں، عدالت نے خاتون وکیل پر بھاری جرمانہ عائد کرنے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: جعلی ڈگری پر امریکا جانے والی خاتون کو 6 سال قید کی سزا
عدالت کے ریمارکس
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جج کے خلاف کارروائی کا صحیح فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے۔ جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے صرف آبزرویشنز دیں، کوئی حکم جاری نہیں کیا جس پر عملدرآمد ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے ڈرونز حملوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا بیان آ گیا
حکمنامے کی تفصیلات
حکمنامے میں کہا گیا کہ پٹیشنر نے توہین عدالت کی درخواست میں بہت سے ایسے افراد کو فریق بنایا جو آئینی عہدوں پر موجود ہیں۔ آئینی عہدے پر فائز شخص یا شخصیات کو فریق نہیں بنایا جا سکتا جب تک ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا، عید کی خوشیاں ماتم میں تبدیل، والدین کے گھر عید منانے آئیں بیٹیاں فائرنگ سے جاں بحق
موجودہ ججز کے خلاف کارروائی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کا کوئی جج اسی عدالت کے کسی دوسرے حاضر سروس جج کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ کسی حاضر سروس جج کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی قابل سماعت نہیں ہوتی۔
پٹیشنر کی درخواست کا جائزہ
پٹیشنر کی جانب سے کی گئی استدعا غلط فہمی پر مبنی، قابل اعتبار مواد سے غیر مستند اور آئینی دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ عدالت نے پٹیشنر کی جانب سے آفس اعتراضات پر مطمئن نہ ہونے کے باعث کیس داخل دفتر کرنے کا حکم دے دیا۔








