مزارِ اقبال پر گارڈز تبدیلی کی تقریب، پاک بحریہ نے فرائض سنبھال لیے
گارڈز کی تبدیلی کی تقریب
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور میں مزارِ اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب ہوئی، اس موقع پر پاک بحریہ کے دستے نے گارڈز کے فرائض سنبھال لیے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ: بھارتی شہری کی درخواست پر اٹارنی مقرر کرنے پر دلائل طلب
مہمان خصوصی کی آمد
پاکستان نیوی کے کمانڈر سنٹرل پنجاب ریئرایڈمرل سہیل احمد عزمی تقریب کے مہمان خصوصی تھے، انہوں نے پاکستان رینجرز اور پاک بحریہ کے دستوں کا معائنہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپلائی کم مال مہنگا
اعزازی گارڈز کی تعیناتی
پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے نے مزار اقبال پر اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھال لیے، پاکستان رینجرز پنجاب کا دستہ مزار اقبال پر فرائض سے سبکدوش ہوکر رخصت ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میری ہمت، مردانہ وار قدم بڑھا دیا، اور میں اندر چارپائیوں کے درمیان کھڑا تھا، دروازہ بند کیا لیکن کنڈی چڑھانے کا عمل نا جانے کیوں تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔
پھولوں کی چادر
گارڈز کی تعیناتی کے بعد قومی شاعر کے مزار پر امیر البحر ایڈمرل نوید اشرف، پاک بحریہ کے افسران، سیلرز اور نیوی سویلینز کی جانب سے پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز نے سیلاب متاثرین کے لیے کلینک آن ویل اور فیلڈ ہسپتال متعین کرنے کا حکم دیدیا
فاتحہ خوانی اور تاثرات
ریئر ایڈمرل سہیل احمد عزمی نے مزار اقبال پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی، مہمانوں کی کتاب میں تاثرات بھی قلمبند کیے۔
بعد ازاں جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل عاطف بشیر نے مزار اقبال پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔
جی او سی لاہور میجر جنرل عاطف بشیر نے مزار اقبال پر مہمانوں کی کتاب میں تاثرات بھی قلمبند کیے۔
یہ بھی پڑھیں: تربیلا ڈیم کی مٹی میں 636 ارب ڈالر کا سونا موجود ہونے کا دعویٰ
علامہ اقبال کی زندگی
علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی، اس کے بعد وہ لاہور اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے، وہ جرمنی بھی رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پروپیگنڈے اور ڈرامے چھوڑیں عوام کی خدمت پر توجہ دیں: علی امین گنڈاپور
شاعر مشرق کا پیغام
شاعر مشرق علامہ اقبال نے شاعری کے ذریعے اپنا پیغام دنیا بھر میں پہنچایا، ان کے افکار نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ہیں۔
اقبال منزل کی وراثت
واضح رہے کہ اقبال منزل میں علامہ اقبال کے زیرِ استعمال رہنے والی اشیاء کرسی، میز، بیڈ، حقہ اور دیگر چیزیں آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔








