اپوزیشن نے ترمیم کے ایک نکتے پر تقریریں کیں، مطلب باقی نکات تسلیم کرلیے: پرویز رشید
پرویز رشید کا بیان
مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ اپوزيشن نے ترمیم کے صرف عدلیہ سے متعلق ایک نکتے پر تقریریں کیں، اس کا مطلب ہے کہ اپوزيشن نے ترمیم کے باقی نکات کو تسلیم کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 28 اکتوبر کو فل کورٹ اجلاس بلا لیا
سینیٹ کے خطاب میں اظہار خیال
سینیٹ میں خطاب کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ علی ظفر نے تصویر کا وہ رخ دکھایا جو انہیں پسند ہے، تصویر کا وہ رخ نہیں دکھایا جس نے عدلیہ کو پارٹی کے آلہ کار میں بدلنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: کوٹ لکھپت جیل لاہور میں پی ٹی آئی رہنماؤں کا خط، مذاکرات اور گفت و شنید کو ہی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ قرار دے دیا
نظام میں بہتری کی ضرورت
انھوں نے کہا کہ جج کے چوغے کے نیچے ایک سیاسی جماعت کا جھنڈا چھپا لیا اور اس کے مقاصد کے لیے کردار ادا کیا، اب ضروری ہے کہ نظام میں بہتری لائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ تاریخ میں پہلی بار 1 لاکھ 25 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گئی
نائب وزیراعظم کا جواب
دوسری جانب سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ آئینی عدالت سے متعلق میثاقِ جمہوریت کی تجویز پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دستخط بھی موجود ہیں، 2006 میں لندن میں بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف کے درمیان طے ہونے والے چارٹر آف ڈیموکریسی سے ناصرف بانی پی ٹی آئی بلکہ مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے اتفاق کیا تھا۔
ن لیگ کے سینیٹر کا مؤقف
ادھر ن لیگ کے سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ وہ عدلیہ جو آئین کی دھجیاں اڑا کر آپ کے ساتھ سہولت کاری کرتی تھی وہ آپ کو اچھی لگتی تھی، ثاقب نثار اور بندیال اپنے دوستوں کو بینچ میں ساتھ بٹھا کر فیصلے کرتے تھے، کیا وہ عدلیہ ٹھیک تھی؟








