جس دن وہ مردِ آہن نکلا ، وہ اسے ختم کریں گے ,وہ جو لفظ کہے گا ، وہی آئین ہوگا، بیرسٹر گوہر
جیل سے نکلنے کے بعد عمران خان کی طاقت
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ جس دن عمران خان جیل سے نکلیں گے، وہ اسے ختم کریں گے۔ جو لفظ وہ کہے گا، وہی آئین ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی خاتون وزیر داخلہ کا ہینڈ بیگ چوری ہونے پر ہنگامہ برپا ہوگیا
سینٹ میں خطاب
سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "ارے وہ مردِ آہن بیٹھا ہوا ہے جس دن وہ نکلا، وہ اسے ختم کریں گے، وہ مرد آہن جب آئے گا تو جو لفظ کہے گا، وہی آئین ہوگا۔ اگر آزما کر دیکھنا ہے تو کسی اتوار بازار میں جا کر دیکھو، کسی جمعہ پر جا کر دیکھو، کسی فوتگی پر جا کر دیکھو۔"
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری اور سمیع اللہ خان لودھراں پہنچ گئے، عبد الرحمٰن کانجو سے والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت
آئینی ذمہ داری
ان کا مزید کہنا تھا کہ آئین مقدس ذمہ داری ہے، آج اس ذمہ داری سے بے ایمانی کی گئی۔ 27 ویں ترمیم کے بعد جمہوریت برائے نام رہ گئی، ہم ان کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے اور یہ ہوکر رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آج کی سیاست میں آگے بڑھنے کیلئے بااصول، دیانت دار اور حق گو ہونا اور ملک و قوم کی خدمت کی تڑپ رکھنا خوبیاں نہیں بلکہ کمزوریاں گنی جاتی ہیں
باکو ترمیم کا ذکر
انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ باکو میں بیٹھ کر ترمیم منظور کروائی گئی، اس کو ہم باکو ترمیم کہتے ہیں۔ طاقت کے سر پر قائم عمارتوں کو عوام اپنے اوپر بوجھ سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے سفارتی بلنڈر کیا، ایران اس کے ہاتھوں سے نکل گیا: پراوین ساہنی
قانون کی بالادستی
انہوں نے کہا کہ قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہی قانون کی بالادستی ہے۔ دنیا کے کس ملک میں صدر کے پاس استثنیٰ ہے؟ ذاتی مفادات کیلئے عمارتیں قائم کرتے ہیں، لوگ انہیں غلامی کی یادگار سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں وارداتوں کی سنچری کرنے والے گینگ کا سرغنہ گرفتار
چیف جسٹس کا عہدہ اور آئینی تبدیلیاں
انہوں نے کہا کہ آپ نے آرٹیکل 176 میں تبدیلی کرکے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ختم کر دیا۔ دنیا میں جب بھی کوئی عدالتی کنونشن ہوگا تو ملک کی نمائندگی نہیں ہوسکے گی۔ آئین میں ترمیم ہوتی ہے تو عوام امیدیں جوڑتی ہیں، آج افسوس کے ساتھ جمہوریت کے لیے ایک سوگ کا دن ہے۔
لوٹوں کا ووٹ اور حکومت
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کیلئے آئین میں تبدیلیاں اتفاق رائے سے کی جاتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہمارے پاس لوٹوں کا ووٹ نہیں آیا، مبارک ہو کل آپ نے 2 لوٹوں کے ووٹ سے ترمیم پاس کرائی۔








