مرچیں جلانا، بکرے کے سر قبرستان پھینکوانا، بشریٰ کے آنے کے بعد عمران خان کے گھر عجیب رسومات شروع ہوئیں: دی اکانومسٹ
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سیاسی زندگی پر اثرات
لاہور (ویب ڈیسک) برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کے آنے کے بعد عمران خان کے گھر میں عجیب و غریب رسومات شروع ہوئیں، جیسے عمران خان کے سر کے گرد کچے گوشت کو گھمانا، روزانہ سیاہ بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھینکوانا اور کبھی کبھار زندہ سیاہ بکرے منگوانا۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ ختم نہیں ہوئی، چوکنا رہنا ہوگا
بشریٰ بی بی: ایک اہم شخصیت
دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ایک کردار ایسا ہے جو منظرِ عام پر کم نظر آیا لیکن اُس کا پسِ پردہ اثر و رسوخ موضوعِ بحث بنا رہا۔ یہ کردار ہے بشریٰ بی بی کا، جو سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ ہیں، اُن کی روحانی رہنما بھی اور مبصرین کے مطابق وہ شخصیت جنہوں نے عمران خان کی سیاسی زندگی پر سب سے گہرا اثر ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی؛ اورنگی ٹاؤن میں منشیات بحالی مرکز پر مشتعل افراد کا دھاوا، منشیات کے عادی 125 مریض فرار
سیاسی مشاورت میں کردار
رپورٹ کے مطابق 2018 میں عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد بشریٰ بی بی کا کردار تیزی سے سیاسی بحث کا حصہ بن گیا، مخالفین نے اُن ہر حکومتی فیصلوں پر حد سے زیادہ مداخلت کا الزام لگایا۔ عمران خان کی کابینہ کے ایک رکن نے تو یہاں تک بتایا کہ بشریٰ بی بی کا وزیرِاعظم ہاؤس پر مکمل کنٹرول تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آٹزم بچوں کی فلاح کے لیے تاریخی فیصلے، تعلیم، تھراپی بالکل مفت، بکس، پک اینڈ ڈراپ اور کھانا فری
عجیب رسومات اور الزامات
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے ڈرائیور اور گھر کے سابق ملازمین نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کے آنے کے بعد گھر میں عجیب و غریب رسومات شروع ہوئیں، جیسے عمران خان کے سر کے گرد کچے گوشت کو گھمانا، لال مرچیں جلانا، اور روزانہ سیاہ بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھینکوانا۔
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری کی زیر صدارت اجلاس، جرنلسٹ ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور اور صحافیوں کے مسائل سے متعلق اہم فیصلے
کالا جادو کا الزام
دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے ایک رشتے دار نے جہانگیر ترین کو بتایا کہ وہ کالا جادو کرتی ہیں، تاہم پی ٹی آئی نے ان باتوں کو ناراض ملازمین کی پھیلائی ہوئی بے بنیاد کہانیاں قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بی ڈی ایس ڈگری 5 سال کرنیکا فیصلہ ، سیشن 25-2024ء سے نافذ العمل ہو گا
سیاسی فیصلوں پر اثرات
رپورٹ کے مطابق کچھ عرصے بعد ایک دعوت میں جہانگیر ترین سے ملاقات کے دوران بشریٰ بی بی نے خود جہانگیر ترین سے کہا کہ انہوں نے سفید کپڑے اس لیے پہنے ہیں تاکہ آپ مجھے کالے جادو والی عورت نہ سمجھیں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے اسی رات سمجھ لیا کہ پی ٹی آئی میں ان کا مستقبل نہیں، اور بعد میں پارٹی چھوڑ دی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو ساہیوال کی ہائی سیکیورٹی جیل میں منتقل کرنے کا سوچا جا رہا ہے، اجمل جامی
آرمی کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی
بشریٰ بی بی کے کردار پر اختلاف صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں تھا، فوجی قیادت کے ساتھ عمران خان کے تعلقات بھی ایک مرحلے پر شدید کشیدگی کا شکار ہوگئے۔ کچھ سینئر اہلکاروں حتیٰ کہ جنرل باجوہ کو بھی شکایت تھی کہ عمران خان اپنی اہلیہ کی بات زیادہ سنتے ہیں۔
ماضی کے واقعات اور موجودہ صورتحال
2022 میں اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کے خلاف متعدد مقدمات قائم ہوئے، آج دونوں جیل میں ہیں۔ پی ٹی آئی کے کچھ رہنما سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی عمران خان کو فوج کے ساتھ مصالحت پر آمادہ کر سکتا ہے تو وہ بشریٰ بی بی ہی ہیں۔








