منشیات شہروں تک آخر پہنچتی کیسے ہے؟ بارڈر پر کیوں نہیں روکا جاتا؟ جسٹس جمال مندوخیل کا استفسار
منشیات کیس کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)منشیات کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ منشیات شہروں تک آخر پہنچتی کیسے ہے؟ بارڈر پر منشیات کو کیوں نہیں روکا جاتا؟ عدالت نے کہاکہ بارڈر سے ایک ایک ہزار کلومیٹر تک منشیات اندر کیسے آ جاتی ہے؟ ٹنوں کے حساب سے منشیات آتی ہے، افغانستان میں منشیات کی فیکٹریاں بند ہوئیں تو یہاں شروع ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ایف بی آئی چیف رابرٹ میولر چل بسے، ٹرمپ کی جانب سے’’ خوشی کا اظہار‘‘
سپریم کورٹ کی سختی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ منشیات کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، منشیات کی سپلائی روکنے میں ناکامی پر جسٹس جمال مندوخیل اداروں پر برہم ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی میں مقیم عبیرہ ضیاء نے نوجوانوں کی فلاحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں لوہا منوایا
جسٹس جمال مندوخیل کے سوالات
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ منشیات شہروں تک آخر پہنچتی کیسے ہے؟ بارڈر پر منشیات کو کیوں نہیں روکا جاتا؟ عدالت نے کہاکہ بارڈر سے ایک ایک ہزار کلومیٹر تک منشیات اندر کیسے آ جاتی ہے؟ ٹنوں کے حساب سے منشیات آتی ہے، افغانستان میں منشیات کی فیکٹریاں بند ہوئیں تو یہاں شروع ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: شروع میں وکٹ آسان نہیں تھی تو کپتان کو بتایا کہ پہلے نارمل کرکٹ کھیلنی ہے اور پھر میں اپنے انداز میں کھیلوں گا، صاحبزادہ فرحان کی پچ پر سلمان آغا سے بات چیت
بلوچستان میں منشیات کی فصلیں
جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ بلوچستان کے 3 اضلاع میں منشیات کی فصلیں کاشت ہو رہی ہیں، سب کو معلوم ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کرتا، اے این ایف کا کام کلو، کلو منشیات پکڑنا نہیں، سپلائی لائن کاٹنا ہے، چھوٹی موٹی کارروائی تو پولیس بھی کرتی رہتی ہے۔
عدالتی ہدایت
عدالت نے اے این ایف کو ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کی ہدایت کردی اور کوریئر کمپنی کے منیجر کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی کردی۔







