آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدہ نہ لیا تو صورتحال سنگین ہوگی: وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ کا خطاب
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ اور سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدہ نہ لیا تو سنگین صورتحال ہوگی، آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے بچوں کی افزائش میں پلاننگ کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا 12واں اجلاس ابوظہبی میں منعقد ہوا
آبادی کے مسائل اور غربت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پاپولیشن کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی مسائل کو جنم دیتی ہے، زیادہ آبادی مسائل اور غربت کا باعث بنتی ہے، آبادی کے حساب سے وسائل کا انتظام کرنا ہوتا ہے، آبادی اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے چیلنج ہیں، پائیدار معاشی ترقی کیلئے متوازن آبادی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی وی پر فٹبال میچ دیکھنے پر جھگڑا، شوہر نے فائرنگ سے بیوی کو قتل اور بیٹی کو زخمی کردیا
پاکستان کے چیلنجز
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آبادی اور کلائمیٹ چینج جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے، موجودہ جی ڈی پی گروتھ آبادی کی 2.5 فیصد کی ضروریات سے کم ہے، 2.55 فیصد آبادی کی گروتھ خطے کے دیگر ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے، پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پمز اور الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم کا عمران خان کی متاثرہ آنکھ کا معائنہ
دیہی علاقوں کے مسائل
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے اضلاع میں زیادہ متاثرہ لوگ شامل ہیں، ہمیں فوری طور پر 2.55 فیصد آبادی کی گروتھ میں کمی لانا ہوگی، دیہی علاقوں کے لوگوں نے شہروں میں کچی آبادی قائم کی ہوئی ہیں، کچی آبادیوں میں صاف پانی، صحت، چائلڈ اسٹنٹنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کرکٹرز ایک دوسرے کو کن مزاحیہ ناموں سے پکارتے ہیں؟
آبادی کنٹرول کی ضرورت
محمد اورنگزیب نے کہا کہ آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے بچوں کی افزائش میں پلاننگ کی ضرورت ہے، آبادی اور کلائمیٹ چینج کے مسائل کو سنجیدہ نہ لیا تو صورتحال سنگین ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ نے پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ کی نشاندہی، ضبطگی اور تادیبی ایکشن بارے رپورٹ طلب کرلی
موسمیاتی تبدیلی کا اثر
سینیٹر کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی بھی عصر حاضر کا بڑا چیلنج ہے، ماحول دوست معیشت کے فروغ پر توجہ مرکوز ہے، کچی آبادیاں بھی مسائل کا باعث بنتی ہیں، کچی آبادیوں کا کوئی ڈیٹا حکومت کے پاس موجود نہیں ہوتا، ترقی کی رفتار بڑھانے کیلئے آبادی کا کنٹرول ناگزیر ہے، کلائمیٹ چینج کے باعث سیلاب، خشک سالی جیسی آفات کا سامنا ہے۔
معاشی بہتری کی امید
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے، پاکستان آئی ایم ایف پروگرام اور اسٹرکچرل ریفامرز پر عملدرآمد کر رہا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے باعث ملکی معیشت بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے。








