اسموگ سے سانس کی بیماریوں پھیلنے کا خدشہ ہے، قومی ادارہ صحت نے ایڈوائزری جاری کر دی
اسموگ اور صحت کے خطرات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اسموگ سے سانس کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ملک بھر میں صحت کے شعبے، اتھارٹیز اور ماہرین اسموگ کے حوالے سے ضروری اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لئے تیار
ایڈوائزری کی تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق قومی ادارہ صحت نے اسموگ (فضائی آلودگی) سے بچاؤ اور احتیاطی اقدامات کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کردی۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر چینی صدر شی جن پنگ کی پیش کردہ 4 تجاویز کی تفصیلات سامنے آ گئیں
سرد موسم میں خطرات
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سرد موسم میں "اسموگ" رواں ماہ سے فروری تک انسانی صحت کو شدید متاثر کرسکتی ہے۔ فضا میں زہریلے مادے اور سردی مل کر نمونیا کی بیماری پھیلانے کا سبب بنیں گے۔ اسموگ سے صحت، معیشت اور معیار زندگی کو شدید متاثر ہو گا، اور اس سے سانس اور دل کی بیماریوں سمیت کئی طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فضائی آلودگی سے خاص طور پر بچوں، معمر افراد اور پہلے سے بیمار لوگوں کو زیادہ خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1973 کا آئین وفاق پاکستان اور قومی اتحاد کی درخشندہ علامت ہے: وزیراعظم کا یومِ دستور پر پیغام
متاثرہ علاقوں کی صورتحال
قومی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ پنجاب کے شہر لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور اسلام آباد کو اسموگ کے زیادہ خطرات ہیں۔ بالخصوص لاہور میں فضائی آلودگی سب سے زیادہ ہے جہاں شہریوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
حفاظتی اقدامات
ملک بھر میں صحت کے شعبے، اتھارٹیز اور ماہرین اسموگ کے حوالے سے ضروری اقدامات کریں۔ بچوں کو زیادہ دیر باہر رہنے سے اجتناب برتنا چاہیے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں بڑے اور بچے فیس ماسک کا استعمال کریں۔








