آج 7ویں بار مجھے عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، 3 ججز کے حکم پر ایس ایچ او کہتا ہے میں نے آرڈر نہیں دیکھا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا عمران خان سے ملاقات پر بیان
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کےلئے وزیراعظم کو اب کال نہیں کروں گا، اگر کسی کے پاس اختیار نہیں ہے تو اس سے بات کرنے کا کیا فائدہ۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے فنکاروں کی ہیڈلبرگ جرمنی میں یادگار پرفارمنس
اجتماع پر اظہار خیال
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر تمام راستے اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارے پاس عدالتی احکامات موجود ہیں، اس کے بعد کون ہے جو مجھے روک رہا ہے؟ تین ججز کے احکامات موجود ہیں، یہ کہتے ہیں ہم نے آرڈر نہیں دیکھے، عدالتی احکامات اتنے بے توقیر ہو چکے کہ ایک ایس ایچ او کہہ رہا ہے کہ میں نے دیکھا ہی نہیں؟ اداروں کو اس پر فوری ایکشن لے کر اپنے احکامات پر عمل درآمد کرانا چاہیے۔ اگر ادارے اپنے احکامات نہیں منواتے تو پھر ہم سے گلہ ہی نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت مذہبی امور نے پرائیویٹ عازمین حج کیلئے ہدایات نامہ جاری کردیا
تلخی کی وجہ
ان کا کہنا تھا کہ میری تلخی اسی وجہ سے ہے کہ آئین و قانون کی پاس داری نہیں ہو رہی، میری تلخی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ میں کوئی دھمکی یا ایسا لہجہ استعمال نہیں کر رہا جو قانون و آئین کے دائرے سے باہر ہو۔ میرا حق ہے کہ اگر کوئی آئین و قانون پر عمل نہیں کر رہا تو اسے تھوڑے تلخ لہجے میں سمجھاؤں، یہی میں کر سکتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: جیکب آباد میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کردیا، کاروبار زندگی مفلوج، شہری پریشان
محمود اچکزئی کے بیان پر ردعمل
وزیراعلیٰ نے کہا کہ محمود اچکزئی صاحب نے جو بات کی ہے وہ تجربے کی بنیاد پر کی ہو گی۔ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں، محمود اچکزئی کو بانی نے تمام ذمہ داریاں دی ہوئی ہیں۔ ہم تنظیمی لوگ ہیں، ہم اسی پر عمل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھوک، بھیک اور جرم کو جنم دیتی ہے، انسان جب سمندر کی موجوں کے تھپیڑے کھا رہا ہوتا ہے تو صرف اپنی جان کی فکر ہوتی ہے کپڑے لٹّے کی نہیں ہوتی
وفاق سے تعلقات کی ضرورت
سہیل آفریدی نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کو پہلے دن ہی درخواست کی تھی کہ کچھ کریں اور مجھے ملنے دیں۔ اگر ان سے بات کرنے کی میری خواہش نہ ہوتی تو ان کی کال کی اٹینڈ نہیں کرتا۔ میں وفاق سے اچھے ورکنگ ریلیشن چاہ رہا تھا، مجھے جو جواب ملا اس کے بعد مناسب نہیں سمجھا کہ انہیں دوبارہ بتاؤں، اگر کسی کے پاس اختیار نہیں ہے تو اس سے بات کرنے کا فائدہ؟
یہ بھی پڑھیں: جنگ کی صورت میں مسلح افواج کو ایندھن فراہمی کے لئے پاکستانی ریفائنریوں نے تیاری کر لی
مالی واجبات کا مطالبہ
ان کا کہنا تھا کہ وفاق ہمیں فیڈریشن یونٹ سمجھے اور ہمارے تین ہزار بلین سے زائد کے واجبات دے۔ واجبات ملنے پر ہم ترقی میں جو تھوڑے پیچھے رہ گئے اسے کور کرلیں گے۔ آئین و قانون کی بات کرنے کے باوجود میرے خلاف ایف آئی اے کا مقدمہ درج ہوگیا، اس کا مطلب ہے کہ میرا یہاں آنا فضول نہیں، تبھی میرے خلاف ایف آئی اے کا پرچہ ہوا۔ میں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ ہوں، اس کے باوجود میرا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے امریکا سے تجارتی پابندیاں کم کرنے کے لیے شراکت داروں سے تعاون کا مطالبہ کردیا
انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کا ذکر
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی میں انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کبھی نہیں رکے، یہ خود بھی کہہ چکے ہیں کہ 14 ہزار سے زائد آئی بی او آپریشن کر چکے ہیں۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ کے پی میں دہشت گردی نہیں ہو رہی۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو بند کمروں سے باہر آکر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پالیسی اپنانے پڑے گی تو کوئی فوجی، سویلین شہید نہیں ہوگا۔
دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ 20 سال سے اگر دہشت گردی ختم نہیں ہورہی تو دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں تبدیلی آنا چاہیے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے مخالف نہیں، عام شہریوں کی شہادتوں پر ہمارا اعتراض ہے۔ فوجی شہداء بھی ہمارے اپنے ہیں، ان پر ہم کبھی سوالات نہیں اٹھاسکتے۔ جس پالیسی شفٹ کی بات ہم کرتے ہیں، ہمیں پتہ ہے اس سے پاکستان میں امن آسکتا ہے۔








