خاتون کی بریت کے بعد پولیس ریکارڈ مینجمنٹ سے ریکارڈ ڈیلیٹ کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور (ویب ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے خاتون کی بریت کے بعد پولیس ریکارڈ مینجمنٹ سے ریکارڈ ڈیلیٹ کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔ تاہم، عدالت نے پولیس کو 10 روز میں درخواست گزار خاتون کو نیا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی ہدایت دی، جس میں بریت یا ڈسچارج مقدمات کو ظاہر کرنے سے روکا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان، آئل ٹینکر اور کوئلے کے ٹرک میں آتشزدگی، 16 افراد زخمی
عدالتی تفصیلات
تفصیل کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم نے شہری ڈاکٹر عظمیٰ حمید کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے بتایا کہ بریت، ڈسچارج یا منسوخ مقدمات کا ذکر پولیس سرٹیفکیٹ میں نہیں کر سکتے، حالانکہ پولیس بری مقدمات کا ریکارڈ رکھ سکتی ہے مگر سرٹیفیکیٹ میں ان کا ذکر نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: معاشی استحکام کے لیے زرعی ایمرجنسی ناگزیر، بلاول قومی اسمبلی میں کسانوں کی آواز بنے مبارکباد دیتا ہوں: میاں منظور احمد وٹو
قانونی اصول
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رولز کے مطابق پولیس 60 سال تک مقدمات کا ریکارڈ رکھ سکتی ہے، اور عدالت پولیس کو ریکارڈ رکھنے سے روکنے کا حکم نہیں دے سکتی۔ بری شخص وہی حیثیت رکھتا ہے جیسے کبھی مقدمہ قائم ہی نہ ہوا ہو۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 14 شہری کی عزت و وقار کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی کے بعد جنرل سید عاصم منیر کا بیان بھی سامنے آگیا
مقدمے کی تفصیلات
درخواست گزار خاتون پر 2016ء میں فراڈ کا مقدمہ درج ہوا، جس کے بعد 2017ء میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے خاتون کی بریت کی درخواست منظور کر لی۔ درخواست گزار خاتون نے اسٹڈی ویزے پر بیرون ملک جانے کے لیے پولیس ریکارڈ سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دی تھی۔
سرٹیفکیٹ کا معاملہ
پولیس نے خاتون کو سرٹیفکیٹ جاری کیا جس میں بری ہونے والے مقدمے کا بھی ذکر شامل تھا۔ درخواست گزار نے مقدمے کا ذکر کیے بغیر سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور ریکارڈ ڈیلیٹ کرنے کی استدعا کی تھی۔








