ٹک ٹاکر ایمان پر تشدد اور بال کاٹنے کی وجہ سامنے آ گئی
واقعے کی تفصیلات
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹک ٹاکر ایمان پر تشدد اور بال کاٹنے کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ معاملہ سالگرہ کے دوران سنگین ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: امارات نے اپنے ملک میں چاول اگانے کے تجربات شروع کردیے، ریگستان میں یہ کیسے ممکن بنایا جائے گا؟
کیس میں اہم انکشافات
تھانہ نصیر آباد اور تھانہ لوہی بھیر کے علاقوں میں بال کاٹنے اور بدسلوکی کا نشانہ بننے والی ٹک ٹاکر ایمان کے کیس میں اہم انکشافات ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ریئلٹی سٹار ڈائمنڈ ٹینکرڈ کی وال مارٹ میں لڑکی پر حملے اور چوری کے الزام میں گرفتاری و رہائی
تشدد کی وجوہات
ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی کو نظار خان عرف ارمان خان وغیرہ نے بظاہر معمولی بات پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ سالگرہ کی تقریب میں ایمان نے نظار خان کے شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی دوسری لڑکی سے اس کے مبینہ تعلقات کا ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے سفاری پارک میں ہتھنی سونیا مر گئی
تقریب میں ہونے والا واقعہ
ایمان کی اس بات چیت کو وہاں موجود نظار خان کی اہلیہ نے بھی سن لیا۔ اس صورتحال کے بعد نظار خان وغیرہ نے ایمان کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا اور اس کے بال کاٹ کر ویڈیو بھی بنائی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرداخلہ کا ٹی چوک فلائی اوور منصوبے کا دورہ، مسافروں کو دارالحکومت تک سگنل فری رسائی ملے گی: محسن نقوی
ملزمان کی گرفتاری
ایف آئی آر میں نامزد چاروں مرکزی ملزمان شامل ہیں جن میں نظار خان عرف ارمان خان، انیس خان عرف دورانی، جلیل عرف مٹھو اور جبار خان شامل ہیں، جو تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔ ان کے ساتھ ملوث لڑکیاں بھی مسلسل روپوش ہیں، ایک مرکزی ملزم کے خیبر پختونخوا فرار ہونے کی اطلاعات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی پاسپورٹ بتدریج ترقی کے بعد ٹاپ 100 پاسپورٹس میں شامل ہوگیا
پولیس کی کارروائیاں
ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر تنویر سپرا نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے 4 مختلف ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی جانب سے حوالے کیے گئے زیر حراست 3 ملزمان سے بھی تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے ملزمان کے زیر استعمال موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ تصویر علی امین کی نہیں، بلکہ میری ہے: صوبائی وزیر پختون یار خان
مزید تحقیقات
واقعے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں تھانہ نصیر آباد میں درج کیا گیا ہے، جہاں ثنا نامی لڑکی، 4 دیگر لڑکیاں اور 4 لڑکے بھی سالگرہ کی تقریب میں موجود ہونے کے باعث تلاش میں شامل ہیں۔ پولیس نے نامزد سمیت دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے لیکن کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
خیبر پختونخوا کی جانب فرار
ذرائع کے مطابق ایک ملزم انیس عرف دورانی کے خیبر پختونخوا فرار ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد پولیس ٹیم وہاں بھی روانہ کر دی گئی ہے۔ متاثرہ لڑکی ایمان کو سالگرہ کی تقریب میں اس کی سہیلی ثنا وغیرہ نے اس کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کی رِیچ زیادہ ہونے کی وجہ سے بلایا تھا۔








