ٹک ٹاکر ایمان پر تشدد اور بال کاٹنے کی وجہ سامنے آ گئی
واقعے کی تفصیلات
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹک ٹاکر ایمان پر تشدد اور بال کاٹنے کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ معاملہ سالگرہ کے دوران سنگین ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس اب ایئرپورٹ پر ہی دستیاب ہوں گے
کیس میں اہم انکشافات
تھانہ نصیر آباد اور تھانہ لوہی بھیر کے علاقوں میں بال کاٹنے اور بدسلوکی کا نشانہ بننے والی ٹک ٹاکر ایمان کے کیس میں اہم انکشافات ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فضاء میں ہلکی ہلکی خنکی اتر آئی تھی، یکدم باہر شور مچ گیا، سب دروازے کی طرف گئے تو دیکھا گھوڑا خالی تانگے کو لے کر سرپٹ سڑک پر بھاگا جا رہا تھا
تشدد کی وجوہات
ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی کو نظار خان عرف ارمان خان وغیرہ نے بظاہر معمولی بات پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ سالگرہ کی تقریب میں ایمان نے نظار خان کے شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی دوسری لڑکی سے اس کے مبینہ تعلقات کا ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے حملے سے پہلے کس طرح خفیہ کارروائیاں انجام دیں؟ موساد کی ویڈیو جاری
تقریب میں ہونے والا واقعہ
ایمان کی اس بات چیت کو وہاں موجود نظار خان کی اہلیہ نے بھی سن لیا۔ اس صورتحال کے بعد نظار خان وغیرہ نے ایمان کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا اور اس کے بال کاٹ کر ویڈیو بھی بنائی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان دائمی رہنے کے لیے بنایا گیا ہے: صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ
ملزمان کی گرفتاری
ایف آئی آر میں نامزد چاروں مرکزی ملزمان شامل ہیں جن میں نظار خان عرف ارمان خان، انیس خان عرف دورانی، جلیل عرف مٹھو اور جبار خان شامل ہیں، جو تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔ ان کے ساتھ ملوث لڑکیاں بھی مسلسل روپوش ہیں، ایک مرکزی ملزم کے خیبر پختونخوا فرار ہونے کی اطلاعات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈز کیس؛ عمران خان، بشریٰ بی بی کی اپیلیں جلد سماعت کیلیے مقرر کرنے کی درخواست
پولیس کی کارروائیاں
ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر تنویر سپرا نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے 4 مختلف ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی جانب سے حوالے کیے گئے زیر حراست 3 ملزمان سے بھی تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے ملزمان کے زیر استعمال موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیوٹی پر آنے ٹریفک وارڈن کو بھی ڈاکوؤں نے لوٹ لیا
مزید تحقیقات
واقعے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں تھانہ نصیر آباد میں درج کیا گیا ہے، جہاں ثنا نامی لڑکی، 4 دیگر لڑکیاں اور 4 لڑکے بھی سالگرہ کی تقریب میں موجود ہونے کے باعث تلاش میں شامل ہیں۔ پولیس نے نامزد سمیت دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے لیکن کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
خیبر پختونخوا کی جانب فرار
ذرائع کے مطابق ایک ملزم انیس عرف دورانی کے خیبر پختونخوا فرار ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد پولیس ٹیم وہاں بھی روانہ کر دی گئی ہے۔ متاثرہ لڑکی ایمان کو سالگرہ کی تقریب میں اس کی سہیلی ثنا وغیرہ نے اس کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کی رِیچ زیادہ ہونے کی وجہ سے بلایا تھا۔








